1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سفری پابندیوں کی معطلی‘ کے خلاف صدر ٹرمپ نے اپیل دائر کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفری پابندیوں کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر کیا گیا تھا اور اس پر فوری اطلاق کیا جانا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے سفری پابندیوں کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کا مقصد امریکا کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اس لیے اس پر فوری عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔

امیگریشن پابندیاں: ’نام نہاد جج کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے‘، ٹرمپ

امریکی مسلمانوں کی نیویارک کے ہوائی اڈے پر نماز

ٹرمپ کی امیگریشن پابندیاں، امریکی عدالت نے عمل درآمد روک دیا

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تین ججوں کا ایک پینل اس اپیل کو سنے گا اور وہ کسی وقت بھی اس پر اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے فیصلے پر عالمی سطح پر بھی مذمت کی جا رہی ہے۔

جمعے کے دن واشنگٹن ریاست کے شہر سیاٹل کے وفاقی جج جیمز رابرٹ نے اس پابندی کو عارضی طور پر ملک بھر سے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ ہفتے کے دن امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے اس عدالتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا کہ یہ پابندی امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر عائد کی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ہفتے کی دن دائر کردہ اس اپیل میں درخواست گزاران میں ڈونلڈ ٹرمپ بطور امریکی صدر جبکہ ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جان کیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتہ بعد ستائیس جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ملک ایران، عراق، شام، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن  کے شہریوں کی امریکا آمد پر نوّے دن کی پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ مہاجرین کی امریکا آمد پر ایک سو بیس دن کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کے فیصلے کے خلاف امریکا سمیت متعدد یورپی ممالک میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز فلوریڈا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب کے باہر دو ہزار افراد نے اس صدارتی حکم کے خلاف احتجاج کیا۔

اسی طرح دیگر امریکی شہروں کے علاوہ برطانیہ اور فرانس میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ سب سے بڑا مظاہرہ لندن میں ہوا، جس میں تقریبا دس ہزار مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی طرف سے امریکی صدر کی حمایت پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

DW.COM