1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سفارتکاروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار گھریلو ملازمائیں

خواتین کا استحصال صرف انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں اور ان سے جسم فروشی کروانے والے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں ہی نہیں ہوتا۔ ایسے عناصر میں کبھی کبھی غیر ملکی سفارتکار اور ان کے اہل خانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔

default

یہ سفارتکار اور ان کے اہل خانہ اپنے ہاں کام کرنے والی گھریلو ملازماؤں کی مالی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان سے غیر انسانی حد تک مشقت لیتے ہیں اور اکثر ان کے یہ جرائم منظر عام پر بھی نہیں آتے۔ جرمنی میں متعین ایک سعودی سفارتکار کے گھر پر کام کرنے والی ایک ملازمہ کے ساتھ بھی اس سعودی شہری کے مجموعی طور پر سات افراد پر مشتمل خاندان نے طویل عرصے تک ایسا ہی سلوک کیا، جس کی تفصیلات نے ہر کسی کو پریشان کر دیا۔

دیوی رتبشاری کو اپنے لیے بہتر زندگی کی امید تھی۔ وہ انڈونیشیا سے سعودی عرب کے راستے جرمنی پہنچی تھی، جہاں اسے سعودی عرب کے سفارت خانے کے ایک اہلکار کے گھر پر ملازمت کا موقع مل گیا۔ لیکن اس خاتون کی امیدیں اس وقت ایک ڈراؤنا خواب بن گئیں، جب اس سے اس کا پاسپورٹ لے لیا گیا اور اس کے لیے نہ تو سعودی سفارتخانے کے اس اہلکار کے گھر سے نکلنا ممکن تھا اور نہ ہی اسے انڈونیشیا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ کسی رابطے کی اجازت تھی۔ دیوی رتبشاری کو اس سات رکنی سعودی کنبے کی ہر روز 18 گھنٹے تک خدمت کرنا پڑتی تھی۔ اس کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا تھا۔ وہ ایک کمرے میں بغیر کسی گدے یا تکیے کے زمین پر سوتی تھی۔

Botschaft Saudi Arabiens in Berlin

جرمن دارالحکومت برلن میں سعودی سفارتخانے کی عمارت

جرمن دارالحکومت برلن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بان یِنگ (Ban Ying) نامی تنظیم کی ایک خاتون اہلکار نِیویدِتا پرشاد (Nivedita Prasad) کہتی ہیں: ’’دیوی رتبشاری کو اکثر اس کا آجر سعودی اہلکار، اس کی بیوی اور بچے بھی پیٹتے تھے۔ کبھی ہاتھوں سے اور کبھی مختلف اشیاء کے ساتھ۔ اس کی ہمیشہ تذلیل کی جاتی تھی۔ اسے کبھی بھی اس کا نام لے کر نہیں پکارا جاتا تھا، بلکہ گالی دے کر۔‘‘

نِیویدِتا پرشاد کہتی ہیں کہ ان کی تنظیم کو جب دیوی رتبشاری کے حالات کا علم ہوا تو اس نے موقع ملنے پر ایسے استحصال زدہ انسانوں کی مدد کرنے والے اپنے ایک ماہر کارکن کے ذریعے بہت مشکل حالات میں اس انڈونیشی خاتون کو سعودی سفارتکار کے گھر سے نکالا۔

بان یِنگ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک ایسی تنظیم ہے، جو ایسی بہت سی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک یورپی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس تنظیم کا برلن میں قائم مشاورتی مرکز ہر سال اوسطاﹰ ایسی دس خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو ملازمت کے نام پر شدید نوعیت کے استحصال کا شکار ہو چکی ہوتی ہیں۔

Nivedita Prasad کہتی ہیں کہ ایسے مسائل اکثر دیکھنے میں آتے ہیں کہ سفارتکاروں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو مشقت، مالی استحصال اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’’یہ اسی استحصال کا حصہ ہے کہ انہیں اُس سے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جتنا کہ انہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر صورت حال اس سے زیادہ خراب ہوتی ہے۔ ایسی ملازماؤں کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ لیکن ایسے ہر واقعے میں تشدد نہیں کیا جاتا۔‘‘

Proteste von weiblichen Haushaltshilfen in Kolkata Indien

بھارتی شہر کولکتہ میں گھریلو ملازماؤں کے طور پر اپنے ساتھ بدسلوکی اور استحصال کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین

برلن میں جرمن ادارہ برائے انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی ایک ماہر ہائیکے رآبے (Heike Raabe) کہتی ہیں کہ کسی ملازم یا ملازمہ کو پیٹنا اور اسے بند کیے رکھنا صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ غلامی پر پابندی کے بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ کسی ملازم سے زیادہ کام کروا کر اسے کم یا بالکل کوئی اجرت ادا نہ کرنا بھی یورپی ملکوں کے اقتصادی اور سماجی قوانین کے منافی ہے۔

ہائیکے رآبے کہتی ہیں کہ سفارتی اہلکاروں کو ان کے میزبان ملکوں میں اپنے خلاف قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ دیوی رتبشاری سعودی عرب جا کر اپنے آجر سعودی سفارتکار کے خلاف قانونی کارروائی کی در‌خواست دے سکتی تھی، لیکن اس کے پاس نہ تو کوئی رقم تھی اور نہ ہی سعودی عرب کا ویزا۔ ہائیکے رآبے کہتی ہیں: ’’ایسے کسی بھی واقعے میں متاثرہ انسان قانونی طور پر کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ دیوی رتبشاری کے لیے عملی طور پر پوری دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں، جہاں وہ اپنے حقوق کا قانونی مطالبہ کر سکے۔‘‘

دیوی رتبشاری اب واپس انڈونیشیا جا چکی ہے اور جرمنی میں کام کے دوران اس کی جو اجرت بنتی تھی، وہ بھی اسے انڈونیشیا بھجوائی جا چکی ہے۔ یہ رقم برلن میں انسانی حقوق کی تنظیم بان یِنگ کی طرف سے چندے کے طور پر جمع کی گئی تھی۔

رپورٹ: اُلریکے ماسٹ کرشننگ / مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس