1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی ولی عہد کے اقدامات، ٹرمپ کی جانب سے خیرمقدم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے اقدامات کرتے ہوئے متعدد شہزادوں اور وزراء کی گرفتاری کی حمایت کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مبصرین کا کہنا ہےکہ سعودی ولی عہد ان اقدامات کے ذریعے ملکی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط تر بناتے جا رہے ہیں تاہم شہزادہ محمد بن سلمان کے مطابق انسدادِ بدعنوانی کی یہ کارروائی ملکی بقا کے لیے ضروری ہے۔

مستقبل کے سعودی بادشاہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے

سعد حریری اور محمود عباس اچانک سعودی عرب پہنچ گئے

سعودی خواتین اسٹیڈیم میں داخل ہو سکیں گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب میں سرمایہ کاروں، وزراء اور متعدد شہزادوں کی گرفتاری کی حمایت، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی آئینہ دار ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ سعودی ولی عہد سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ، دونوں رہنماؤں کا ایران سے متعلق سخت موقف بھی ہے۔

پیر کے روز ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ انہیں شاہ سلمان اور سعودی ولی عہد پر بھرپور اعتماد ہے۔ سعودی عرب میں اشرافیہ کے خلاف اس انداز کی سخت کارروائی کی نظیر سعودی عرب کی جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔

ٹرمپ کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا، ’’وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ جنہیں سخت برتاؤ کا سامنا ہے، برسوں سے اپنے ملک کو نچوڑ رہے تھے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:40

ڈرائیونگ کی اجازت ملنے پر سعودی خواتین کے ارادے کیا ہیں؟

یہ حالیہ کارروائی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اٹھائے جانے والے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے۔ محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لیں اور عالمی سطح پر سعودی اثرورسوخ میں اضافہ کریں۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ محمد بن سلمان سعودی پالیسی بنانے میں کلیدی کردار کے حامل ہو چکے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق حالیہ کچھ عرصے میں سعودی ولی عہد نے انتہائی جارحانہ انداز سے اپنے تمام مخالفین کو اپنے راستے سے الگ کر دیا ہے۔

روئٹرز نے امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ولی عہد شاہی خاندان پر عوامی اعتبار میں اضافہ چاہتے ہیں اور ملکی اقتصادیات کو تنوع کی جانب لے جانے کے ساتھ ساتھ سخت گیر مذہبی بیانیےکی بجائے سماجی اصلاحات کرتے ہوئے اعتدال پسند معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات