1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی وزیر پر حملے کے لیے بم کو زہرآلود بنانےکا منصوبہ

سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ 2009ء میں ایک خودکش حملے بال بال بچ گئے تھے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ القاعدہ کا اصل منصوبہ، بم میں زہر استعمال کرنا تھا، تاہم اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تھا۔

default

دہشت گرد تنظیم AQAP کا رہنما ناصیر

یہ بات سعودی روزنامے ‘الحیات’ نے سعودی ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویوکے حوالے سے شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ یمن میں القاعدہ کے گرفتار عسکریت پسند جابر الفائفی کے انکشاف کے مطابق نائب وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف پر حملے میں استعمال کیے جانے والے آٹھ سو گرام دھماکہ خیز مواد کو زہریلا بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا کیونکہ یمن سے تعلق رکھنےوالےالقاعدہ کے عسکری رہنما قاسم الریمی دھماکہ خیز مواد میں زہر ملانے میں ناکام رہے تھے۔ جابر کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تودھماکے میں زخمی ہونے والا کوئی بھی شخص چند سیکنڈز کے اندر ہلاک ہوجاتا۔

فائفی کے مطابق حملے کے لیے دھماکہ خیز مواد ابراہیم العصری نے تیار کیا تھا۔ العصری کا نام اس وقت القاعدہ کے ان اشخاص کی فہرست میں بھی شامل ہے جو سعودی عرب اور یمن کو انتہائی مطلوب ہیں۔

یاد رہے کہ اگست 2009ء میں سعودی شہزادے اور انسداد دہشت گردی کے لیے سرگرم عمل نائب وزیر داخلہ پر حملے کی ذمہ داری ‘القاعدہ ان عرب پیننسولا’ (AQAP) نے قبول کی تھی۔اس تنظیم کا قیام یمن اور سعودی عرب میں القاعدہ کی شاخوں کو یکجا کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

جابر فائیفی اس وقت یمن میں قید ہے۔ اس نے اپنے آپ کو گوانتاناموبے سے رہائی اور سعودی عرب کے بحالی پروگرام سے واپسی کے بعد یمنی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسراعوان

DW.COM