1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی نائب ولی عہد ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ

سعودی عرب کے بہت بااثر سمجھے جانے والے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے ان سے ملاقات کرنے والے اعلیٰ ترین سعودی رہنما ہوں گے۔

Saudi-Arabien stellt Reformplan Vision 2030 in Riad vor (Reuters/Saudi Press Agency)

سعودی عرب کے شاہ سلمان (درمیان میں) ولی عہد محمد بن نائف (بائیں) اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان کے ہمراہ

سعودی دارالحکومت ریاض سے پیر تیرہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں اقتصادی اصلاحات کے ایک بڑے منصوبے کے تحت سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ آج پیر کے روز امریکا روانہ تو ہو گئے ہیں تاہم ان کا یہ دورہ سرکاری طور پر جمعرات سولہ مارچ سے شروع ہو گا۔

USA Donald Trump vor dem US-Kongress in Washington (picture-alliance/AP Photo/J. Lo Scalzo)

سعودی نائب ولی عہد امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے اعلیٰ ترین سعودی رہنما ہوں گے

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے لکھا ہے کہ اس دورے کے دوران ملکی نائب ولی عہد کی کوشش ہو گی کہ امریکی رہنماؤں سے ان کی بات چیت کے دوران توجہ دوطرفہ روابط کو مزید بہتر بنانے اور علاقائی معاملات سے متعلق مشترکہ مفادات پر مرکوز رہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نائب ولی عہد ہونے کے علاوہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیٹے اور ملکی وزیر دفاع بھی ہیں تاہم سعودی عرب کی اس تیسری اہم ترین شخصیت کی توجہ زیادہ تر اقتصادی امور پر مرکوز رہتی ہے۔

اسی سعودی شہزادے نے گزشتہ برس ’وژن 2030ء‘ کے نام سے وسیع تر سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے اس پروگرام کی ابتدا کی تھی، جس کے تحت اس خلیجی ریاست کی اب تک تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والی معیشت میں تنوع پیدا کیا جانا ہے۔

Bildkombo Saudi-Arabien Mohammed bin Nayef / Mohammed bin Salman bin Abdulaziz (Imago/picture-alliance/AA)

کئی ماہرین کے مطابق سعودی ولی عہد (بائیں) اور نائب ولی عہد کے مابین رقابت بھی پائی جاتی ہے

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض کے باہمی تعلقات عشروں پرانے ہیں، جن کی بنیاد سعودی تیل کے بدلے اس ریاست کو مہیا کی جانے والی قومی سلامتی کی امریکی ضمانتوں پر ہے۔ تاہم ان روابط میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت میں وہ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، جو اس سے پہلے تک پائی جاتی تھی۔

اس کا ایک اہم سبب سعودی حکمرانوں میں پایا جانے والا یہ احساس بھی تھا کہ باراک اوباما امریکا کے شام کی جنگ میں شامل ہونے سے ہچکچاتے رہے تھے اور ان کا جھکاؤ کسی حد تک سعودی عرب کے علاقائی حریف ملک ایران کی طرف تھا، جس کے ساتھ واشنگٹن نے اوباما کے دور صدارت میں تہران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدہ بھی کر لیا تھا۔

شاہ سلمان ایشیا کا ایک ماہ کا دورہ اتوار سے شروع کریں گے

فریضہ حج کے حوالے سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات

سعودی عرب: پیسے کمانے کے لیے اچھا وقت گزر چکا

ایران ہمیں ’تباہ کرنا‘ چاہتا ہے، سعودی وزیر خارجہ

اسی تناظر میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اس امید کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور ‌صدارت میں امریکا خلیج فارس کے علاقائی معاملات، خاص طور پر ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے سلسلے میں اپنی زیادہ عملی شمولیت کا مظاہرہ کرے گا۔

China Xi Jinping in Saudi-Arabien (Reuters/Saudi Press Agency)

سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان چینی صدر شی جن پنگ کے ہمراہ

شہزادہ محمد بن سلمان دورہء امریکا پر ایک ایسے وقت پر روانہ ہوئے ہیں جب ان کے 81 سالہ والد شاہ سلمان تقریباﹰ ایک مہینے کے کئی ایشیائی ملکوں کے اس دورے پر ہیں، جس دوران مختلف ملکوں سے اقتصادی روابط بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

اسی دوران اے ایف پی نے یہ بھی لکھا ہے کہ سعودی عرب کے 56 سالہ ولی عہد اور ملکی وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کے بجائے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکا کے دورے پر جانا کسی حد تک یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ سعودی تخت کے مستقبل کے ان دونوں وارثوں کے مابین رقابت بھی پائی جاتی ہے۔

DW.COM