1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی مبینہ دہشت گرد گرفتار، ممکنہ ہدف بش بھی

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک 20 سالہ سعودی طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ طالب علم بم حملے کے ذریعے سابق صدر بش، جوہری پلانٹس اور ڈیمز کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

default

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بدھ کے روز ایف بی آئی کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا سعودی شہری خالد علی ایم الدوساری سن 2008ء میں سٹوڈنٹ ویزے پر امریکہ میں داخل ہوا اور وہ لوبوک کالج کا طالب علم ہے۔

Treffen: Aznar Bush

سابق امریکی صدر بش اس نوجوان کا ممکنہ ہدف ہو سکتے تھے

یہ گرفتاری امریکی حکام کی اس تشویش کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر امریکہ کے اندر موجود کوئی شخص کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق الدوساری کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے نہیں اور یہ اپنے بل بوتے پر تخریب کاری کا منصوبہ تیار کر رہا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس گرفتاری سے ایک مرتبہ پھر اس بات کی اہمیت بڑھ گئی ہے کہ ملک کے اندر اور باہر دہشت گردی کے حوالے سے بیدار رہا جائے۔

کارنے کے مطابق ایک ماہ قبل صدر اوباما کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور اس سعودی باشندے کی گرفتاری کے موقع پر بھی انہیں تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔

الدوساری کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور اس پر بم کی تیاری کے لیے پرزے اور کیمیائی مادے خریدنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے کے ممکنہ اہداف ہائیڈرو الیکٹرک ڈیمز اور جوہری بجلی گھر ہو سکتے تھے۔

Faisal Shahzad

اس سے قبل نیویارک میں ناکام بم حملے کے بعد پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو گرفتار کیا گیا تھا

ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس نوجوان کی ای میلز کی تلاشی کے دوران ایک میل میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ڈیلیس کے گھر کا پتہ اور ماضی میں عراق کی ابوغریب جیل میں خدمات انجام دینے والے تین امریکی فوجیوں کے پتے بھی ملے ہیں۔ واضح رہے کہ ابوغریب جیل میں چند فوجیوں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ مبینہ طور پر غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک روا رکھا گیا تھا۔

ایف بی آئی کے اس اہلکار کے مطابق الدوساری نے اپنے تحریری اقبالی بیان میں کہا ہے کہ اس نے ڈیلیس میں نائٹ کلبوں کو دھماکے سے اڑانے اور نیویارک میں ٹیکسیوں میں بم رکھنے کا بھی سوچا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گڑیا کو بستے میں ڈال کر یہ دہشت گردانہ کارروائی کرنا چاہتا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الدوساری نے اپنے ایک ذاتی بلاگ میں امریکہ کے خلاف ’جہاد کر کے شہید‘ ہونے کا بھی لکھا تھا۔

حکام کے مطابق الدوساری نے اپنے آپ کو ایک میل بھی بھیجی، جس کا ٹائٹل ’ظالم کا پتہ‘ تھا۔ اس میل میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ڈیلیس میں موجودہ گھر کا پتہ تحریر کیا گیا تھا۔ جارج بش، سن 2009ء میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد اس گھر میں منتقل ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق اگر عدالت میں الدوساری پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو گئے، تو اسے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس