1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

سعودی فٹ بالرز کے ’غیر اسلامی‘ ہیئر سٹائل کے خلاف کارروائی

سعودی عرب میں حکام نے فٹبال کے کھلاڑیوں کے ’غیر اسلامی‘ سمجھے جانے والے ہیئر سٹائل کے خلاف کارروائی کرنا شروع کر دی ہے۔ ایک ریفری کو ایک کھلاڑی کو میدان میں اترنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سر کے بال کاٹنا پڑ گئے۔

Fußball Hairstyle Frisur Taribo West

بہت سے ملکوں میں فٹبالر اپنے لیے غیرمعمولی ہیئر سٹائل پسند کرتے ہیں، اس تصویر میں فرانس میں فٹبال کھیلنے والا ایک پیشہ ور افریقی کھلاڑی

خلیج کی انتہائی قدامت پسند بادشاہت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے ہفتہ نو اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس ملک میں فٹ بال کے کھیل کی نگران تنظیم سعودی فٹبال فیڈریشن نے کئی معاملات میں بہت واضح ضابطے طے کر رکھے ہیں کہ کھلاڑی کیا کر سکتے ہیں اور کیا کچھ نہیں؟

مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کل جمعہ آٹھ اپریل کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی کو میدان میں جانے سے پہلے بالکل آخری وقت پر اس لیے اپنے بال کٹوانا پڑ گئے کہ اس کا ہیئر سٹائل فٹبال کی ملکی فیڈریشن کے طے کردہ ضابطوں کے منافی تھا۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میدان کے باہر کھڑے ہوئے ایک کھلاڑی کے سامنے ایک ریفری ہاتھ میں قینچی لیے کھڑا ہے اور پھر وہ اس کھلاڑی کے سر کے درمیان سے وہ تھوڑے سے بال کاٹ دیتا ہے، جو اوپر کی طرف اٹھے ہونے کی وجہ سے ’غیر اسلامی‘ تھے۔

ایک ویب سائٹ کے مطابق اس سے قبل سعودی عرب کے نوجوانوں کی تنظیم کے سربراہ نے اسی ہفتے کے وسط میں کھیلوں کی تمام ملکی تنظیموں اور اولمپک کمیٹی سے یہ کہہ دیا تھا کہ بالوں کے معاملے میں کھلاڑیوں، خاص طور پر فٹبالرز کی طرف سے معمول سے مختلف اور ’سرپھرے‘ ہیر سٹائل رکھنے پر پابندی لگا دی جائے۔

Fußball Hairstyle Frisur Kyle Beckerman

امریکی سٹار فٹبالر کائل بیکرمین اپنے منفرد ہیئر سٹائل کے ساتھ

اے ایف پی کے مطابق عربی زبان کے اخبار الجزیرہ کے ایک مبصر نے لکھا کہ اس طرح کے بال رکھنا اسلامی اور سعودی روایات کے منافی ہے۔ اس مبصر نے سعودی حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فٹبال فیڈریشن کو ایسے ’بیزارکن‘ ہیئر سٹائل کے حامل کھلاڑیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے، جنہیں دیکھتے ہوئے اسکولوں میں زیرتعلیم ان کے نابالغ پرستار بھی ان کی تقلید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

سعودی عرب میں، جو ایک بہت قدامت پسند مسلم معاشرہ ہے اور جہاں عام شہریوں سے اسلام کی وہابی مسلک کے مطابق مقابلتاﹰ سخت گیر تشریح پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا جاتا ہے، بہت سے ایسے پیشہ ور غیر ملکی فٹ بالر بھی ہیں، جو مختلف مقامی ٹیموں کے لیے کھیلتے ہیں۔