1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سعودی فوجی اتحاد کے کمانڈر راحیل شریف‘: دانش مندانہ فیصلہ؟

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سعودی قیادت میں قائم کثیر القومی انسداد دہشت گردی فوج کی سربراہی کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Pakistan Rawalpindi Adel al-Dschubeir bei Raheel Sharif (picture-alliance/AA/ISPR)

جنرل راحیل شریف کی گزشتہ برس جنوری میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے ان کے دورہ پاکستان کے دوران جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے ہفتہ سات جنوری کو موصولہ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان آرمی کےسابق سربراہ کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والی بین الاقوامی انسداد دہشت گردی فوج کی کمان کرنا ایک اعزاز تو ہے لیکن کئی تجزیہ کاروں کو تشویش ہے کہ اس طرح پاکستان کی اس کثیر الملکی عسکری اتحاد میں شمولیت اسلام آباد کے کئی علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پر منفی اثرات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعہ چھ جنوری کی رات ملک کے ایک نجی ٹیلی وژن ادارے کے ایک ٹاک شو میں شرکت کے دوران اعلان کیا کہ راحیل شریف کو، جو گزشتہ برس نومبر تک پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر فائز تھے، 39 مسلم ممالک کے اس فوجی اتحاد کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو سعودی عرب کی قیادت میں اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے متعدد خونریز تنازعات کے حل میں مدد کی جا سکے۔

ان تنازعات کے سلسلے میں ریاض حکومت کی طرف سے خاص طور پر یمن کی خانہ جنگی اور عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی وجہ سے پیدا ہونے والے علاقائی سکیورٹی خطرات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

Pakistan Verteidigungsminister Khawaja Muhammad Asif (picture-alliance/Anadolu Agency)

راحیل شریف کی نئی عسکری ذمے داریوں سے متعلق اعلان خواجہ آصف نے جمعہ چھ جنوری کی رات کیا

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے آرمی چیف کے طور پر دور میں ہی پاکستان کے افغان سرحد کے ساتھ ملحقہ قبائلی علاقوں میں اس ملٹری آپریشن کو بھرپور اور نتیجہ خیز حد تک آگے بڑھایا گیا تھا، جس کا مقصد تب کافی حد تک لاقانونیت کے شکار ان پاکستانی قبائلی علاقوں سے اسلام کے نام پر عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دینے والے شدت پسندوں کا خاتمہ کرنا تھا۔

نومبر 2015ء میں راحیل شریف ابھی پاکستانی فوج کے سربراہ کے عہدے سے رخصت نہیں ہوئے تھے کہ تب ہی یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں سعودی سربراہی میں عسکری اتحاد کا کمانڈر بنا دیا جائے گا۔

اس بارے میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے چھ جنوری کی رات مزید کوئی تفصیلات بتائے بغیر بس اتنا ہی کہا کہ راحیل شریف کو تین درجن سے زائد مسلم ممالک کے اس عسکری اتحاد کا فوجی کمانڈر بنانے کا فیصلہ اسلام آباد حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد اگلے چند روز میں باضابطہ شکل اختیار کر لے گا۔

دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اکثریتی طور پر سنی مسلم آبادی والا ملک ہے جہاں شیعہ مسلمان بھی کوئی بہت چھوٹی مذہبی اقلیت نہیں ہیں اور ان کے بہت بڑے حصے کی مذہبی قربت زیادہ تر ایران اور ایرانی شیعہ اسلام کے ساتھ ہے۔

Jemen Zerstörung (Reuters/A.Mahyoub)

یمنی خانہ جنگی کافی حد تک ایک شیعہ سنی تنازعہ بھی بن چکا ہے

ان حالات میں راحیل شریف کی طرف سے انتالیس ملکی فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کو پاکستانی شیعہ آبادی اس طرح بھی دیکھ سکتی ہے کہ پاکستان جیسے عسکری طور پر بھی سعودی عرب کے بہت قریب ہوتے ہوئے ریاض حکومت کے مزید دائرہ اثر میں آ گیا ہے، بالخصوص اس تناظر میں کہ اکثریتی طور پر وہابی اسلام کا پیروکار سعودی عرب اور اکثریتی شیعہ مسلم ریاست ایران علاقائی طور پر دو بڑے حریف ممالک ہیں اور یمنی تنازعہ ایک داخلی جھگڑا ہونے کے باوجود بظاہر کافی حد تک شیعہ سنی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

اس کا سبب  یہ ہے کہ سعودی عرب یمنی صدر منصور ہادی اور ان کی قیادت میں کام کرنے والی ملکی فوج کا حامی ہے جبکہ یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

اس بارے میں پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور معروف دفاعی تجزیہ نگار طلعت مسعود نے ڈی پی اے کو بتایا، ’’اس بین الاقوامی عسکری اتحاد کی قیادت راحیل شریف کو سونپنے کے فیصلے کے پاکستان میں نظر آنے والے ممکنہ اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ یہ اتحاد متنازعہ ہے۔ اس وجہ سے کہ ریاض اور تہران کے مابین واضح اور شدید کھچاؤ پایا جاتا ہے اور ایران اس عسکری اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔‘‘

طلعت مسعود نے مزید کہا، ’’راحیل شریف کی پاکستانی فوج کے سربراہ کے طور پر کارکردگی کے باعث ان ذمے داریوں کے لیے ان کا انتخاب ایک طرف تو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے، لیکن دوسری طرف اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک پاکستانی جنرل کو ایک ایسے عسکری اتحاد کی قیادت سونپنے کی بات کی جا رہی ہے، جو بہت متنازعہ ہے اور جس کے ایران بہت خلاف ہے۔‘‘

Saudi-Arabien F-15 Kampfflugzeuge (Getty Images/AFP/F. Nureldine)

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے جنگی طیاروں کی طرف سے اب تک یمن میں بے شمار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں

پاکستان شروع میں تو اس سعودی عسکری اتحاد میں شمولیت سے گریزاں تھا لیکن پھر بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے اس فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی تصدیق تو کر دی تھی تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اسلام آباد حکومت اس اتحاد کا حصہ ہوتے ہوئے کوئی  ملکی فوجی دستے بیرون ملک نہیں بھیجے گی۔

طلعت مسعود کے مطابق، ’’کیا یہ ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے کہ اس عسکری اتحاد کی فوجی قیادت ایک پاکستانی جنرل کرے گا، اس سوال کا جواب خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘

DW.COM