1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب کے لیے جدید امریکی جنگی طیارے

امریکہ میں اوباما انتظامیہ نے سعودی عرب کو ایف پندرہ طرز کے بیسیوں جدید جنگی طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کی مالیت قریب 30 بلین ڈالر بنتی ہے۔

default

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ کے اس عرب اتحادی ملک کو 84 نئے جنگی طیارے مہیا کیے جائیں گے جبکہ 70 دیگر لڑاکا طیاروں کو اپ گریڈ کر دیا جائے گا۔

اس بارے میں امریکی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اعلان عنقریب ہی کر دیا جائے گا۔ چونکہ ابھی تک اس امریکی سعودی دفاعی معاہدے کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں، اس لیے اعلیٰ امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سمجھوتے کی مالیت 29.4 بلین ڈالر بنتی ہے۔

Bildgalerie Krieg Kuwait

خبر ایجنسی اے پی کے مطابق اس دفاعی معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب کی عسکری صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا بڑا اہم اتحادی ملک ہے۔ ماہرین کے نزدیک سعودی عرب کو 84 نئے ایف پندرہ طیارے فروخت کرنے کا اوباما انتظامیہ کا آئندہ اعلان اس لیے اور بھی اہم ہے کہ واشنگٹن حکومت اس وقت خطے میں ایران کی وجہ سے لاحق خطرات کا توڑ نکالنے کے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔

اس حوالے سے نیوز ایجنسی اے پی نے ایران اور مغربی دنیا کے درمیان نئی کشیدگی کا حوالہ بھی دیا ہے۔ مغربی دنیا کی کوشش ہے کہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ایرانی تیل کی برآمد پر بھی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایران نے جواباﹰ ابھی حال ہی میں یہ دھمکی بھی دے دی تھی کہ اگر اس کی تیل برآمدات پر پابندیاں لگائی گئیں تو آبنائے ہرمز کے علاقے سے تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں گزر سکے گا۔

MIG Test in Florida

خلیج کے علاقے میں آبنائے ہرمز تیل کی بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم روٹ ہے اور سمندر کے راستے تیل کی عالمی تجارت کا 40 فیصد حصہ اسی راستے سے عمل میں آتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان لفظوں کی اسی جنگ میں تہران کی دھمکی کے بعد امریکہ نے واضح کر دیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شعبے میں تجارت کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کو قریب ایک سال پہلے امریکی کانگریس کی طرف سے یہ اجازت مل گئی تھی کہ سعودی عرب کے ساتھ 60 بلین ڈالر مالیت کا ایک معاہدہ طے کیا جا جا سکتا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت کے اس معاہدے کی مدت دس سال بنتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ سعودی عرب کو F-15 جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور بہت سے میزائل اور ریڈار سسٹم بھی بیچے گا۔

Israeli Kampfflugzeug F-15

اس معاہدے پر امریکہ میں کئی اسرائیل نواز اراکین کانگریس نے شروع میں اعتراض بھی کیا تھا لیکن پھر اوباما انتظامیہ نے انہیں کئی مرتبہ یقین دہانیاں بھی کرائی تھیں۔ امریکی حکومت نے کانگریس کے ایسے ارکان پر واضح کر دیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو جو فوجی برتری حاصل ہے، اسے سعودی عرب کے ساتھ ایسے کسی دفاعی معاہدے سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

سعودی عرب فوجی حوالے سے خلیج کی سب سے طاقتور عرب ریاست ہے اور وہ امریکہ کو تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM