1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب کے تازہ اقدامات، بین الاقوامی میڈیا کی شدید تنقید

شیعہ سنّی تنازعات کو ہوا ملے گی، سعودی عرب جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے اور اپنی بقا کے لیے سعودی عرب کو بدلنا ہو گا، کچھ اسی طرح کے تبصروں کے ساتھ بین الاقوامی پریس نے تازہ سعوی اقدامات پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اٹلی سے شائع ہونے والے روزنامے ’لا سٹامپا‘ نے سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جانے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:’’اس اقدام کے بعد شیعہ سنّی تنازعہ خطرناک حد تک پھیل جائے گا۔ صورتِ حال تیزی سے ان دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تنازعے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مسلم دنیا میں اپنی اپنی بالا دستی کی خواہاں یہ دونوں طاقتیں پہلے سے ہی شام، یمن، عراق، لبنان اور بحرین میں کم و بیش براہِ راست ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔‘‘

’سعودی عرب جلتی آگ پر تیل چھڑک رہا ہے‘

ہالینڈ سے شائع ہونے والا اخبار ’ڈے فولکس کرانٹ‘ لکھتا ہے:’’کیا ہی خوب حلیف ہے! جہاں امریکا عرب دنیا جیسے حساس خطّے میں لگی آگ کو بجھانے اور ایران کو جوہری ترغیب سے بچانے کی کوشش میں ہے، وہاں اُس کی دوست ریاض حکومت جلتی پر تیل چھڑک رہی ہے۔ ایک اہم شیعہ عالم کی سزائے موت پر عملدرآمد نے ایک ایسے خطّے میں کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں شام اور عراق کی صورت میں دو ریاستوں کی بقا ہی خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔‘‘

’اپنی بقا کے لیے سعودی عرب کو بدلنا ہو گا‘

لندن سے شائع ہونے والا برطانوی اخبار ’انڈی پینڈنٹ‘ رقم طراز ہے:’’ریاض حکومت کئی اعتبار سے ناقابلِ برداشت ہے لیکن اُس کا خاتمہ ہمارے حق میں نہیں ہے۔ ہمارا تلخ تجربہ بتاتا ہے کہ مشرقِ وُسطیٰ کے ملکوں میں بادشاہتیں ختم ہونے کا نتیجہ جمہوریت نہیں بلکہ مزید ابتری کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ بلا شک و شبہ سعودی عرب کے اندر ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور القاعدہ مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے اور یوں اپنی ساکھ کو مستحکم بنانے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کو بتایا جانا پڑے گا کہ اگر وہ اپنی بقا چاہتے ہیں تو اُنہیں اپنا طرزِ عمل بدلنا ہوگا۔ شاہ سلمان نے گزشتہ برس تخت نشین ہونے کے بعد سے خونریز اشتعال انگیزی کے جس سلسلے کی منظوری دی تھی، اُسے اب اُنہیں بند کرنا ہو گا۔‘‘

Saudi Arabien Trauerfeier in Al-Awamija nach der Hinrichtung von Sheikh Nimr al-Nimr

سعودی عرب کے شہر العوامیہ میں شیخ نمر النمر کے سوگ میں ہونے والی تقریب کا ایک منظر

سعودی اشتعال انگیزی کا پہلا شکار شام پر مجوزہ بین الاقوامی مذاکرات

فرانسیسی اخبار ’لا شارانت لبرے‘ کے خیال میں سعودی عرب میں شیعہ رہنما شیخ نمر باقر النمر سمیت کئی درجن افراد کی موت کی سزاؤں پر عملدرآمد ایک اشتعال انگیزی ہے، جس کا ’فوری اثر یہ ہو گا کہ جنوری میں شام کے مسئلے پر مجوزہ بین الاقوامی مذاکرات میں کوئی بھی پیشرفت خطرے میں پڑ جائے گی‘۔ اس اخبار کے مطابق ایران اور سعودی عرب میں پڑنے والی اس پھوٹ پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہو گا۔

اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ سے شائع ہونے والے اخبار ’ایل مُنڈو‘ کے مطابق ایران اور سعودی عرب خطّے کی دو بڑی طاقتیں ہیں، جو عشروں سے ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ برسرِپیکار چلی آ رہی ہیں اور شام، عراق اور دیگر مقامات پر جاری متعدد تنازعات کی اصل قصور وار یہی دونوں ریاستیں ہیں۔

’کیا داعش کو شکست دینے کا یہ طریقہ ہے؟‘

فرانسیسی اخبار ’لے فگارو‘ کے مطابق ’جہاں ایک طرف ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے تہذیبوں کی جنگ شروع کر رکھی ہے، وہاں سعودی عرب کی دلچسپی صرف شیعہ اسلام کے ساتھ اپنی مذہبی جنگ تک محدود ہے‘۔ اخبار لکھتا ہے:’’معدنی تیل اور تجارتی معاہدوں کے پیشِ نظر ہمیں سعودی عرب کی اصل فطرت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ آگے چل کر سعودی عرب شیخ نمر کے بھتیجے کو بھی سزائے موت دینا چاہتا ہے۔ کیا یہ ہے طریقہ، آئی ایس کو شکست دینے کا؟‘‘

Iran, Protest nach Hinrichtung eines Geistlichen

ایران کے شہر مشہد میں اتوار کے روز سعودی عرب میں شیخ نمر باقر النمر کی سزائے موت پر عملدرآمد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

جرمن اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے‘ کے مطابق ’جب تک سعودی عرب ایران کو اُس کی حدوں میں رکھنے کے جنون میں مبتلا رہے گا، تب تک مشرقِ وُسطیٰ میں امن قائم کرنے کی تمام تر کوششیں بیکار ثابت ہوں گی‘۔