1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب کی قطر پر یہ مہربانی کیوں؟

سعودی عرب نے قطر کے حاجیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاض حکومت کے اس اقدام کو پڑوسی ممالک کے تناؤ کے شکار حالات میں بہتری کی امید قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ ایس پی اے‘ پر آج جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ حج کے دوران قطری شہریوں کو زمینی اور فضائی راستوں سے سعودی عرب  میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

یہ پیش رفت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قطری شاہی خاندان کے ایک رکن شیخ عبداللہ بن علی الثانی سے ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے جون کے اوائل میں دوحہ حکومت پر دہشت گردی میں تعاون کا الزام عائد کیا تھا اور تمام تر رابطے منقطع کر دیے تھے۔ قطر کی حکومت ان تمام تر الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

Pakistan Saudi Arabian Airlines

سعودی ایئر لائن کے نجی طیارے قطری حاجیوں کو لانے کے لیے دوحہ بھیجے جائیں گے اور یہ اخراجات ریاض حکومت برداشت کرے گی

 

 قطر نے اسّی ممالک کے شہریوں کو ویزے کی چھوٹ دے دی

مقدس مقامات کی بین الاقوامی حیثیت کا قطری مطالبہ ’اعلان جنگ‘، سعودی عرب

قطری تنازعے میں ترکی کا متحدہ عرب امارات کو ’انتباہ‘

ایس پی اے  کے مطابق، ’’شاہ سلمان نے قطری حاجیوں کے لیے سلوی کی سرحدی گزر گاہ کھولنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں حج کے خواہش مند تمام قطری شہریوں کو الیکٹرانک اجازت نامے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔‘‘

شاہ سلمان نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ سعودی ایئر لائن کے نجی طیارے قطری حاجیوں کو لانے کے لیے دوحہ بھیجے جائیں گے اور یہ اخراجات ریاض حکومت برداشت کرے گی۔ واشنگٹن میں قائم عرب فاؤنڈیشن سے منسلک علی شہابی نے کہا، ’’یہ قطری شہریوں کے لیے تو خیر سگالی کا ایک پیغام ہے لیکن اسے دوحہ حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے تناظر میں  کسی بڑی پیش رفت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

 

DW.COM