1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار 9 خواتین کونسلر منتخب

سعودی عرب میں ہونے والے تاریخی بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق کم از کم 9 خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

مکہ میونسپل کونسل کے لیے منتخب ہونے والی سلمہ بنت حزاب العتیبی کا مقابلہ سات مردوں اور دو خواتین سے تھا۔ اس قدامت پسند ملک میں پہلی مرتبہ ان انتخابات میں نہ صرف خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی بلکہ انہیں بہ طور امیدوار سیاسی میدان میں اترنے کی بھی اجازت حاصل تھی۔ اس قدامت پسند ملک میں خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ کم از کم 9 خواتین نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے میونسپل کونسل کی نشستیں حاصل کی ہے۔

ہفتے کے روز منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مجموعی طور پر چھ ہزار چار سو چالیس امیدواروں کا مقابلہ تھا، جن میں نو سو اناسی خواتین بھی شامل ہیں۔

کامیابی حاصل کرنے والی پہلی تین خواتین کے نام سلمہ بنت حزاب العتیبی، لامی عبدلعزیز اور راشہ حفظی ہیں۔ سلمہ نے مکہ میونسپل کونسل سے جب کہ باقی دونوں نے جدہ کے مغربی انتخابی حلقوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان اتوار کی شام تک کیا جائے گا۔

Saudi Arabien Wahlen

ساڑھے تیرہ لاکھ مردوں نے بھی ووٹ رجسٹر کیے تھے

تیل سے مالا مال اس عرب قدامت پسند بادشاہت میں ہونے والے ان انتخابات میں ان انتخابات کے لیے ساڑھے تیرہ لاکھ مردوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ تیس ہزار خواتین کے ووٹ رجسٹر کیے گئے تھے۔

سعودی عرب کی 284 میونسپل کونسلوں میں سے دو تہائی نشستوں کے لیے ہفتے کو ووٹنگ ہوئی جب کہ دیگر ایک تہائی اراکین کا چُناؤ حکومت کرے گی۔ سعودی عرب میں میونسپل کونسل کا مینڈیٹ چار سال کا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس ملک میں منتخب پارلیمان نہیں پائی جاتی۔

تاریخ میں محض تیسرا موقع ہے کہ سعودی عرب میں انتخابات منعقد ہوئے ہیں۔ 1965ء سے لے کر 2005ء تک یہاں کسی قسم کا کوئی انتحاب نہیں ہوا۔ خواتین کو اس جمہوری سیاسی عمل میں شرکت کا موقع دینے کا فیصلہ 2011 ء میں اُس وقت کے سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ نے دیا تھا۔ انہوں نے اصلاحات میں اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین نے اپنا مقام دکھایا ہے اور صحیح آراء اور مشورے دیے ہیں۔

Saudi Arabien Wahlen

سعودی عرب کے یہ الیکشن ایک سنگ میل کی حیثییت رکھتے ہیں

جنوری میں انتقال سے قبل انہوں نے 30 خواتین کو ملک کی اعلی ترین مشاورتی کونسل کا رکن بنایا تھا، ساتھ ہی انہون نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ملک کی مشاورتی کونسل، شوریٰ کی 20 فیصد اراکین خواتین ہوں گی۔

انتہا پسند اسلامی عقائد کے حامل اس ملک میں وہابی مکتب فکر اور کٹر نظریات کا غلبہ ہے۔ حکومتی سیاسی اداروں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے باوجود اس ملک میں اب تک خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے اور سعودی خواتین کسی قسم کے تجارتی یا دفتری معاملات بغیر کسی مرد سرپرست کے انجام نہیں دے سکتی ہیں۔

DW.COM