1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہے گی

امریکی سینیٹرز نے سعودی عرب کو 1.15 بلین ڈالرز مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کا راستہ روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے اپنی ملٹری طاقت میں اضافے سے متعلق امریکی ارکان پارلیمان کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مشرقی وُسطیٰ میں امریکا کے اہم ترین حلیفوں میں سے ایک سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کے اس معاہدے کا راستہ روکنے کے لیے قرارداد امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی۔ اس قرارداد کے خلاف 71 سینیٹروں نے جبکہ 27 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

اس حوالے سے قانون سازی کی تجویز ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال، ڈیموکریٹک سینیٹر کرِس مرفی کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ اگر یہ تجویز منظور کر لی جاتی تو گزشتہ 18 ماہ سے جاری یمن تنازعے میں سعودی عرب کے کردار کے باعث اسے ایک بلین سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کے اس معاہدے کا راستہ روکنا ممکن ہو جاتا۔

امریکی سینیٹ میں اکثریتی رہنما میککونل کا منگل 20 ستمبر کو کہنا تھا، ’’میرے خیال یہ بات امریکاکے لیے اہم ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ حد تک تعلقات اچھے رکھے۔‘‘

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر جان مککین کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے حلیفوں کو ہتھیاروں کی فراہمی نہیں روک سکتا، جو انہیں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف لڑائی کے لیے درکار ہیں۔ میککین کا کہنا تھا، ’’ٹینکوں کی فروخت کے معاہدے کا راستہ روکنے سے سعودی عرب ہی نہیں بلکہ خیلجی پارٹنرز بھی یہی سمجھیں گے کہ امریکا علاقے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے اجتناب کر رہا ہے اور ایک ناقابل بھروسہ پارٹنر ہے۔‘‘

1.15 بلین مالیت کے اس معاہدے میں 100 سے زائد جنگی ٹینک، مشین گنیں، سموک گرینیڈ لانچر، نائٹ وژن ڈیوائسز، میدان جنگ میں ناکارہ ہوجانے والے ٹینکوں کو نکالنے والی گاڑیاں اور دیگر تربیتی اسلحہ شامل ہیں۔

سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف ایک ملٹری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے میں محض مشیرانہ کردار ادا کر رہا ہے، جو اب تک 10 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت اور 30 لاکھ سے زائد کے بے گھر ہونے کی وجہ بن چکا ہے۔

سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی کے معاہدے کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب ان علاقوں پر بھی بمباری کر رہا ہے جہاں واشنگٹن حکومت نے اسے باز رہنے کا کہا تھا جبکہ جنگی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں القاعدہ اور داعش اپنے قدم مضبوط کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس بات کے قابل بھروسہ رپورٹس موجود ہیں کہ سعودی عرب امریکی ساختہ ملٹری ساز و سامان کو سویلین کے خلاف اندھا دھند اور ضرورت سے زائد طاقت کے ساتھ حملوں میں استعمال کر رہا ہے۔ بار کی طرف سے ریاض حکومت کے ساتھ فوجی تعاون فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔