1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب ڈھائی ملین شامیوں کو پناہ دے چکا ہے، ایس پی اے

ان مطالبات کے جواب میں کہ سعودی عرب کو خانہ جنگی کی باعث مہاجرت پر مجبور اور زیادہ شامی شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دینی چاہیے، سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ قریب ڈھائی ملین شامی باشندوں کو پہلے ہی اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے ہفتہ بارہ ستمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یہ اعداد و شمار خلیج کی سب سے بڑی ریاست سعودی عرب کا بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے ان مطالبات کے جواب میں پہلا سرکاری ردعمل ہے، جن کے مطابق خلیج کی بہت امیر عرب ریاستیں اب تک شامی مہاجرین کی مدد کے لیے کافی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (SPA) نے جمعہ گیارہ ستمبر کو رات گئے ریاض میں ملکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے بیان کا اس ذریعے کا نام لیے بغیر حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب اب تک جن شامی باشندوں کو اپنے ہاں قبول کر چکا ہے، وہ انہیں مہاجرین نہیں سمجھتا۔

اس کے علاوہ ان لاکھوں شامی باشندوں کو، جو شام میں موجودہ خونریز تنازعے کے آغاز سے اب تک سعودی عرب آ چکے ہیں، اس لیے باقاعدہ مہاجر کیمپوں میں نہیں رکھا گیا کہ ان کی ’سلامتی اور ذاتی وقار کے تحفظ کو یقینی‘ بنایا جا سکے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ملکی وزارت خارجہ کے اسی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان شامی باشندوں کو سعودی عرب میں نقل و حرکت کی مکمل اجازت ہے اور جن ’کئی لاکھ‘ شامیوں نے سعودی عرب میں قیام کا فیصلہ کیا ہے، انہیں ’باقاعدہ رہائشی حیثیت‘ بھی دے دی گئی ہے۔

Syrien Zerstörung in Ain Tarma

شامی بحران کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے ہجرت پر مجبور ہے

ایس پی اے نے اپنی رپورٹوں میں مزید لکھا ہے کہ ایسے شامی باشندوں کو قانونی رہائش کے اجازت نامے دیے جانے کے بعد انہیں نہ صرف سعودی عرب میں ملازمتیں کر سکنے کے حقوق حاصل ہو گئے ہیں بلکہ انہیں معمول کی مفت طبی سہولیات بھی حاصل ہیں اور ان کے بچے اسکول بھی جا سکتے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے ماضی میں اس بارے میں حقائق کو زیر بحث لانے سے اس لیے احتراز کیا کہ سعودی ریاست شامی باشندوں کی مدد کے لیے کیے گئے ان اقدامات کی تشہیر کے ذریعے ’نہ تو کسی خود ستائشی کی خواہش مند تھی اور نہ ہی اس کا مقصد اس سلسلے میں کوئی بڑی میڈیا کوریج‘ حاصل کرنا تھا۔