1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب نے میزائل حملہ ناکام بنا دیا

سعودی سکیورٹی حکام کے مطابق یمن سے داغا گیا ایک میزائل حملہ ملکی سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق بیلاسٹک میزائل حملے کا نشانہ ابھا نامی شہر تھا۔

سعودی فوج کے مطابق پیر چار جولائی کو ملکی ایئر ڈیفنس نظام کی بدولت یمنی سرحد سے داغے گئے بیلاسٹک میزائل حملے کو ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ سعودی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اِس حمے کا امکاناً نشانہ جنوب مغربی صوبے عسیر کا دارالحکومت ابھا تھا۔ سعودی دارالحکومت ریاض سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بیلاسٹک میزائل کو بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

سعودی عرب نے میزائل حملوں کو تباہ کرنے والا جدید امریکی ’پیٹریاٹ‘ نظام نصب کر رکھا ہے۔ یہ نظام سعودی سرحد پر میزائل حملوں کے خدشے کے تناظر میں گزشتہ برس نصب کیا گیا تھا۔

آج پیر کے روز کیا گیا بیلاسٹک میزائل حملہ کویت میں طے پانے والی عبوری امن ڈیل کے بعد چوتھی مرتبہ کیا گیا ہے۔ یمنی حریفوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات کا سلسلہ رواں برس اپریل میں شروع ہوا تھا اور تب سے کمزور سی جنگ بندی بھی جاری ہے۔

Yemen Explosion in Sanaa

یمنی دارالحکومت صنعاء پر کیا گیا ایک حملہ

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے مقرر خصوصی مندوب اسماعیل ولد شیخ احمد کا کہنا ہے کہ یمنی تنازعے کے حریفوں نے حالیہ ایام میں مذاکراتی عمل میں دو ہفتے کا دانستہ وقفہ کر رکھا ہے۔ شیخ احمد کے مطابق ابھی تک امن مذاکرات میں بہت ہی کم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

یمنی تنازعہ سن 2015 سے شروع ہے اور اِس میں سعودی عسکری اتحاد بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی صدر عبد ربو منصور ہادی کی حمایت میں عملی طور پر سرگرم ہے۔ یمن کی حوثی شیعہ ملیشیا کو مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اِس مسلح تنازعے میں اب تک ساڑھے چھ ہزار انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ یمن کی کل آبادی کا اسی فیصد انسانی بنیاد پر دی جانے والی امداد پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔ سارے ملک کا کاروباری و انتظامی ڈھانچہ فریقین کی شیلنگ اور سعودی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری سے تباہ ہو چکا ہے۔

یمن میں سعودی مداخلت کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارں کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یمن میں سعودی حکام نے انسانی حقوق کی انتہائی زیادہ خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے اور حیرانی کی بات ہے کہ یہ عرب ملک اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بھی ہے۔ ان رپورٹوں کے تناظر میں اقوام متحدہ میں قائم سعودی مشن نے یمن میں انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کیا تھا۔