1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب نے ترکی میں جنگی جہاز تعینات کر دیے

سعودی عرب نے اپنے جنگی جہاز ترکی کی ایک ایئربیس پر تعینات کر دیے ہیں۔ اس کا مقصد داعش کے خلاف جنگ میں تیزی لانا بتایا گیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ان کے خصوصی زمینی دستے شام میں کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے کہ اس نے نیٹو کے رکن ملک ترکی کے اینجرلیک ایئر بیس پر اپنے ایئر کرافٹس تعینات کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد شام میں فعال انتہا پسند گروہ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں جہادیوں کے خلاف اپنے فضائی حملوں کو بحال کر دیا تھا، جسے امریکا نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

ریاض حکومت نے البتہ کہا ہے کہ ابھی تک جہادیوں کے خلاف لڑائی کے لیے زمینی دستے روانہ نہیں کیے گئے ہیں۔ يہ امر اہم ہے کہ ايک روز قبل ہی ترک وزير خارجہ مولود چاووش اوغلو نے يہ عنديہ ديا تھا کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے شام ميں داعش کے خلاف زمينی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کے ليے رياض حکومت اپنے لڑاکا طيارے ترکی روانہ کر رہی ہے۔

ترکی اور سعودی عرب دونوں ملک ہی دمشق حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں جب کہ گزشتہ ہفتے ہی شام کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر ان دونوں ملکوں کی طرف سے زمینی فوج بھیجی گئی تو ’اس جارحیت کے خلاف مزاحمت‘ کی جائے گی۔

سعودی عرب کے بریگیڈیئر جنرل احمد الاسیری کا کہنا تھا کہ ترکی میں جنگی جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ برسلز میں امریکا اور اس کی اتحادیوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ کو تیز کرنا ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں زمینی کارروائی کے لیے منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ الاسیری کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے آئندہ دنوں میں فوجی ماہرین کی ایک ملاقات ہو گی، جس میں تفصیلات طے کی جائیں گی۔

اتوار کے روز سعودی وزیر خارجہ عدل بن احمد الجبیر نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے خصوصی دستے شام بھیجنے اور وہاں داعش کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

دوسری جانب ترکی نے آج دوسرے روز بھی شام میں کردوں اور اسد مخالف اپوزیشن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے صورت حال مزید گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ شام میں سن دو ہزار گیارہ کے بعد سے دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔