1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں پھنسے بھارتیوں کو بچانے کے لیے ہنگامی آپریشن

بھارت نے ملازمت سے محروم ہو جانے کے بعد فاقہ کشی پر مجبور اپنے دس ہزار شہریوں کی مدد کے لئے ہنگامی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ حکومت نے سعودی عرب میں مقیم دیگر بھارتیوں سے بھی اپنے ہم وطنوں کی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

بھارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں متعدد لیبر کیمپوں میں غیر انسانی حالات میں پھنسے ہوئے مصیبت زدہ بھارتی ورکروں کو وہاں سے نکالنے کے لئے ایگزٹ ویزوں کا انتظام کیا جا رہا ہے جبکہ بھارتی امور خارجہ کے وزیر مملکت جنرل(ریٹائرڈ) وی کے سنگھ اس ایئر لفٹ آپریشن کی نگرانی کے لئے جدہ روانہ ہو رہے ہیں۔
قبل ازیں بھارتی وزیر داخلہ سشماسوراج نے متعدد ٹوئٹ کر کے یہ اطلاع دی کہ سعودی عرب میں پھنسے بھارتی ورکروں کو کھانا فراہم کرا دیا گیا ہے۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ’’میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ سعودی عرب میں بے روزگار ہو جانے والے کسی بھی بھارتی شہری کو بھوکا نہیں رہنے دیا جائے گا۔ میں نے مسلسل اس پر نگاہ رکھی ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میرے معاون جنرل وی کے سنگھ معاملات کو سلجھانے کے لئے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ میرے ایک دوسرے معاون ایم جے اکبر سعودی عرب اور کویت کی انتظامیہ سے اس مسئلے پر بات کریں گے۔‘‘
بھارتی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور کویت میں مقیم بھارتیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو کھانا کھلائیں اور ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کویت میں تو صورت حال قابو میں ہے تاہم سعودی عرب میں معاملہ سنگین ہے۔

بحران کی وجہ کیا ہے؟

دراصل بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ سے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں کو زبردست نقصان ہو رہا ہے۔ اس نقصان کی وجہ سے کئی کمپنیاں بند ہوگئی ہیں۔ سعد اور بن لادن جیسی بڑی کمپنیاں پچھلے سال پچاس ہزار ورکروں کو نکال چکی ہیں جبکہ تیل اور انفرا اسٹرکچر سے وابستہ دیگر کمپنیاں بھی ایسے ہی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ اس صورتحال سے بھارتی شہری بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے ورکروں کو گزشتہ سات آٹھ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور جو لوگ وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں ان کے پاس کرایہ تک کے پیسے نہیں ہیں۔


سعودی عرب میں تیس لاکھ بھارتی ملازمین

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں تقریباً ساٹھ لاکھ بھارتی شہری کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں ایک تہائی آبادی غیر ملکی شہریوں کی ہے اور ان میں بھارتی شہریوں کی تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے بیشتر بھارتی شہریوں کا تعلق بہار، اتر پردیش اور تلنگانہ صوبے سے ہے۔ ان ملازمین سے بھارت کو بڑی مقدار میں غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ 2015ء میں بھارتی ورکروں نے 10.1 بلین ڈالر بھارت بھیجے تھے۔

'ہم تین روز سے بھوکے ہیں

ایک بھارتی مزدور نے ٹوئٹر پر وزیر خارجہ سشما سوراج کو اطلاع دی تھی کہ جدہ میں پچھلے تین دنوں سے تقریباً آٹھ سو بھارتی بھوکے پیاسے پھنسے ہوئے ہیں۔ سشما سوراج نے بعد میں ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ان مزدوروں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہے۔ یہ لوگ پانچ کیمپوں میں ہیں، جن میں سے تین جدہ میں اور ایک ایک شمیسی اور طائف میں ہیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں بتایا کہ جدہ میں بھارتی قونصل خانہ اور انڈین کمیونٹی کی کوششوں سے ان مصیبت زدہ لوگوں میں تقریباً سولہ ہزار کلوگرام سے زیادہ کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں پھنسے ورکروں کو واپس لانے کا فیصلہ معاون وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ کے دورے کے بعد کیا جائے گا۔
جاوید اختر، نئی دہلی