1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں ’ ٹرمپ نواز  ممکنہ ملاقات‘، کیا ہونے جا رہا ہے؟

وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورہء سعودی عرب اور وہاں امریکی صدر ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کو پاکستان میں کئی حلقے ایران اور  پاکستان کے مابین کشیدگی اور ریاض و تہران کی سرد جنگ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

Nawaz Sharif Pakistan Premierminister spricht in Frankreich (Getty Images/A.Jocard)

وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں سعودی عرب میں ٹرمپ اور نواز شریف کے درمیان ملاقات کا امکان ہے

واضح رہے کہ آج وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمورِ خارجہ سرتاج عزیز نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ رواں ماہ کے آخر میں سعودی عرب میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات کا امکان ہے۔

پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ عمار جان کے خیال میں کوئی ایران مخالف اتحاد اپنے حتمی مراحل میں ہے ۔ ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ اور سعودی عرب ایران و شام کی مشرق وسطیٰ میں بھر پور مخالفت کر رہے ہیں اور اب پاکستان بھی اس مخالفت کا فریق بننے جا رہا ہے۔ پہلے ہم نے راحیل شریف کو بھیجا۔ پھر جنرل باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس کے بعد ہمارے کمانڈوز وہاں گئے۔ ان تمام اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ ہم ایران و سعودی عرب کے درمیان تنازعے کے حوالے سے غیر جانبداری کے لاکھ دعوے کریں لیکن ہمارے یہ سارے اقدامات اور اب نواز شریف کا سعودی عرب کا دورہ  اور وہاں ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات سب اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں اور ایران کے مخالف۔‘‘

Pakistan Rawalpindi Adel al-Dschubeir bei Raheel Sharif (picture-alliance/AA/ISPR)

تجزیہ کاروں کے مطابق پہلے راحیل شریف اور پھر جنرل باجوہ کے سعودی عرب کے دورے سے لگتا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں فریق بننے جا رہا ہے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’یہاں لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر ہم نے سعودی عرب کا ساتھ دیا تو صرف ایران ناراض ہوگا لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور اس خطے میں سیاسی صف بندی واضح ہے۔ ایک طرف امریکا، سعودی عرب، اسرائیل اور کچھ دوسرے عرب ممالک ہیں جب کہ دوسری طرف ایران، شام، روس اور کسی حد تک چین بھی ہے۔ روس نے شام کی حُکومت بچانے کے لئے بہت متحرک کردار ادا کیا ہے، یہاں تک کہ اس کے فوجی بھی وہاں گئے ہیں۔ تو ہمارا کیا خیال ہے کہ اگر ایران کو کچھ ہوتا ہے تو روس خاموش بیٹھے گا اور اگر اس معاملے میں ہم امریکی کیمپ میں جائیں گے تو روس ہم سے خوش ہوگا۔؟  ہمارے تعلقات بمشکل روس سے کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ اب اگر ہم امریکا اور سعودی عرب کے ساتھ جاتے ہیں تو یقیناًیہ تعلقات پھر خراب ہوں گے۔ اس کے علاوہ چین بھی اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ اسلام آباد، واشنگٹن کا ساتھ دے۔بھارت، ایران اور افغانستان ہم سے پہلے ہی ناراض ہیں۔ تو ہم خطے میں پانچ ممالک کو ناراض کر کے ملک کے لئے کونسا اچھا کام کریں گے۔؟ یہ وہ نقطہ ہے جس پر حکومت کو سوچنا چاہیے۔ اگر چین ہم سے ناراض ہوگیا، تو یہ بھاری سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی اور ہماری معیشت کا بھی جنازہ نکلے گا۔‘‘

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف نے اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’جب ہم نے جنرل راحیل کو وہاں بھیجا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے۔ فَوج اور حُکومت دونوں ہی سعودی شاہوں کو ناراض کرنا نہیں چاہتے۔ اس دورے سے لگتا ہے کہ ایران مخالف ایجنڈا تیار کیا جا رہا ہے، جس کا ہم بھی حصہ بنیں گے لیکن اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔‘‘

دوسری جانب حکومت کا دعوی ہے کہ وہ ایران مخالف کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گی۔ نون لیگ کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے ا س دورے کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں یہ دورہ ایران کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق کسی ایسے منصوبے سے ہے جو ایران مخالف ہو۔ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور ہم اس سے تعلقات خراب نہیں کر سکتے۔‘‘

راجہ ظفرالحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کسی ایران مخالف منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔

DW.COM