1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں ولی عہد تبدیل، ایران کا سخت ردعمل

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد مقرر کر دیا ہے۔ سعودی عرب کی اعلیٰ ترین مذہبی کونسل نے اس فیصلے کی حمایت کر دی ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو ’تختہ الٹنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سعودی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ شاہ سلمان نے ایک شاہی حکم نامے کے تحت اپنے ستاون سالہ بھتیجے محمد بن نائف سے کراؤن پرنس کا عہدہ واپس لے لیا ہے اور ان کی جگہ اپنے اکتیس سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو نیا ولی عہد نامزد کر دیا ہے۔

سعودی نائب ولی عہد ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ

سعودی بادشاہ کے قتل کی منصوبہ بندی میں شامل افراد کا مقدمہ

قطری شہریوں کے لیے خلیجی ممالک کی ہاٹ لائن

بتایا گیا ہے کہ محمد بن سلمان حسب سابق ملکی وزیر دفاع کے منصب بھی فائز رہیں گے اور نائب وزیر اعظم کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔ شاہ سلمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے ولی عہد سے اپنی وفاداری کا اظہار کریں۔

اس پیشرفت پر ایران نے تنقید کرتے ہوئے اسے محمد بن نائف کا ’تختہ الٹنے کا ایک غیر محسوس عمل‘ قرار دیا ہے۔ اکیس جون بروز بدھ ایران کے سرکاری میڈیا نے محمد بن سلمان کو ولی عہد مقرر کے فیصلے پر لکھا، ’’سعودی عرب میں بغاوت: بیٹے کو باپ کا جانشین بنا دیا گیا۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ پرنس محمد بن سلمان ایران کے کڑے ناقد ہیں اور انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران میں بھی ’جنگ‘ شروع ہو جانا چاہیے۔ ناقدین کے خیال میں اسی لیے سعودی عرب میں ہونے والی یہ سیاسی تبدیلی ایران کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

ولی عہد مقرر کیے جانے کے بعد محمد بن سلمان سعودی عرب میں اور زیادہ طاقتور شخصیت بن گئے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ مکالمت کو مسترد کر چکے ہیں جبکہ قطر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گردوں کی مالی معاونت پر سخت بھی موقف رکھتے ہیں۔

Saudi Arabien - Kronprinz Mohammed bin Salman (picture-alliance/abaca/Balkis Press)

محمد بن سلمان حسب سابق ملکی وزیر دفاع کے منصب بھی فائز رہیں گے

انہوں نے خلیجی ممالک کے اس تازہ بحران میں قطر کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح یمن کی جنگ شروع کرنے میں بھی محمد بن سلمان نے کلیدی کردار کیا تھا، جس میں اب تک ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق شاہ سلمان نے پرنس محمد بن نائف کو ملکی وزیر داخلہ کے عہدے سے بھی ہٹا دیا ہے۔ سعودی عرب میں وزارت داخلہ ایک انتہائی اہم وزارت تصور کی جاتی ہے، جو ملک کے تمام تر سکیورٹی معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے بتایا ہے کہ شاہ سلمان نے کئی حکم نامے جاری کیے ہیں، جن میں ولی عہد کی تبدیلی کا حکم بھی شامل ہے۔ بدھ کی دن جاری کردہ اس حکم نامے کے کچھ دیر بعد ہی سعودی عرب کی اعلیٰ ترین مذہبی کونسل نے اس شاہی فرمان کی حمایت کر دی۔

DW.COM