1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’’سعودی عرب میں منٰی واقعے کا اب تذکرہ بھی نہیں ہوتا‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ستمبر میں حج کے دوران مچنے والی بھگدڑ میں تاحال اندازوں سے کہیں زیادہ یعنی دو ہزار چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سعودی عرب نے اس بارے میں کئی ماہ سے نئے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بیس ستمبر کو منٰی میں پیش آنے والے اس واقعے کو حج کی تاریخ کا خونریز ترین حادثہ قرار دیا ہے۔ اے پی کے مطابق اس سلسلے میں سرکاری رپورٹوں اور حکام کے بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ 36 سے زائد ممالک کے حاجیوں سے بھی رابطہ کیا گیا۔ ہلاکتوں کے بارے میں یہ نئے اعداد و شمار اس تعداد سے تین گنا زیادہ ہیں، جو سعودی حکومت کی جانب سے تین ماہ قبل جاری کی گئی تھی۔ سعودی حکومت نے 26 ستمبر کو کہا تھا کہ بھگدڑ میں 769 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور اس کے بعد سے ان اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تاہم حاجیوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک لاپتہ ہے۔

اس حادثے کے تناظر میں ریاض حکومت نے دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا تھا۔ خاص طور پر ایران کے اس مطالبے پر ریاض حکام کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا، جس میں اس واقعے کی تحقیقات میں دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اس سلسلے میں فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا تاہم اس کے بعد سے بہت کم ہی تفصیلات کو عام کیا گیا ہے۔

اس سے قبل رواں برس گیارہ ستمبر کو مکہ میں ایک کرین کے گرنے سے سو سے زائد عازمین ہلاک ہوئے تھے۔ اس سال تقریباً بیس لاکھ افراد نے حج کیا تھا۔ منٰی میں مچنے والی بگھڈر میں سب سے زیادہ یعنی 464 ایرانی عازمین ہلاک ہوئے تھے تاہم اس کے بعد مالی کا نمبر آتا ہے، جس کے 305 شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح 1990ء میں بھی بھگڈر کے واقعے میں 14 سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اے پی کے مطابق سرکاری ٹیلی وژن پر انیس اکتوبر کے بعد سے اس واقعے کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ سرکاری ٹی وی پر آخری مرتبہ اس حوالے سے وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کا وہ بیان نشر کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے تحقیقات میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ سعودی حکومت ہر سال حج کو محفوظ بنانے کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کرتی ہے۔