1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب میں مغربی طرز کے ریزورٹ کی تعمیر کی جائے گی

سعودی عرب نے بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک ایسا ’نیم خود مختار ویزا فری‘ انٹر نیشنل ریزورٹ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں خواتین پر لباس کے انتخاب اور مرد و خواتین کے ایک ساتھ ہونے پر پابندی نہیں ہو گی۔

بحیرہ احمر کے شمال مغربی ساحل پر بنائے جانے والے اس ریزورٹ میں مالدیپ کی طرز پر لگژری ہوٹل ، جزائر اور ساحلی جھیلوں کی تعمیر پر خاص توجہ دی جائے گی۔ سعودی کمیشن نے خبر رساں ادارے اے پی کی اس ریزورٹ پر سیاحوں کے لیے بنائے گئے قوانین کے حوالے سے درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔

ملک کے پبلک انویسٹنمنٹ فنڈ نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ ریزورٹ کی تعمیر کے لیے بنیادی سرمایہ فراہم کرے گا۔ پی آئی ایف نے یہ بھی کہا کہ اس نیم خود مختار علاقے میں قوانین ’بین الاقوامی معیارات‘ کے مطابق وضع کیے جائیں گے، مزید یہ کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی سطح پر بڑے ہوٹلوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرے گا۔

اس منصوبے کے لیے مختص فنڈ کے سربراہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں جنہیں رواں برس جون کے مہینے میں اُن کے والد شاہ سلمان نے اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔

Rumänien Wald mit Moos (Imago/Nature Picture Library)

بُحیرہ احمر کے ساحل پر جدید سہولیات کے حامل ریزورٹ کے قیام سے سعودی عرب کو سالانہ پندرہ ارب سعودی ریال کی آمدنی ہو گی

ولی عہد محمد بن سلمان اپنے ملک میں معیشت کی مضبوطی کے لیے محض تیل کی پیداوار پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ شاہزادہ محمد بن سلمان کے ‘وژن دو ہزار تیس‘ کے منصوبے کا اہم حصہ سیّاحت ہے۔ وژن دو ہزار تیس منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ سعودی معاشرے کو متنوع اور جدید بنایا جائے۔

بُحیرہ احمر کے ساحل پر جدید سہولیات کے حامل ریزورٹ کے قیام سے توقع ہے کہ سعودی عرب کو سالانہ پندرہ ارب سعودی ریال کی آمدنی ہو گی۔ اس کے علاوہ پینتیس ہزار ملازمتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

ملک کے پبلک انویسٹنمنٹ فنڈ کے مطابق بحیرہ احمر پر یہ تفریحی مقام ساحل کے ساتھ ساتھ قریب 200 کلومیٹر تک تعمیر کیا جائے گا اور یہاں لگژری کے متلاشی اور صحت کی بہتری کے مقصد سے آنے والے سیاحوں کے لیے موزوں ماحول بنایا جائے گا۔ 

DW.COM