1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب میں فلسطینی شاعر کو اسلام چھوڑنے پر لمبی سزا

ایک سعودی عدالت نے ایک فلسطینی شاعر کو مرتد ہونے کے الزام کے تحت سنائی گئی سزائے موت کی سزا کو آٹھ برس قید اور آٹھ سو کوڑے مارنے کی سزا سے تبدیل کر دیا ہے۔

فلسطینی شاعر اشرف فیاض کو سعودی عرب کی مذہبی پولیس نے سن 2013ء میں ملک کے جنوب مغربی علاقے آبھا سے حراست میں لیا تھا اور ان پر سن 2014ء میں مقدمے کا آغاز ہوا تھا۔

بدھ کے روز فیاض کے وکیل عبدالرحمان الاہیم نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اس نئے عدالتی فیصلے کے حوالے سے لکھا، ’’عدالت نے سزائے موت کا اپنا سابقہ فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔‘‘

اپنے پیغام میں انہوں نے فیاض پر عائد کیے گئے ارتداد کے الزامات کی تصدیق بھی کی، جس کی بنا پر عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ دیا۔ ’’میرے موکل کو آٹھ برس قید اور پچاس پچاس کی قسطوں میں آٹھ سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔‘‘

Screenshot Initiative Facebook Dichter Ashraf Fayadh Todesurteil EINSCHRÄNKUNG

اس شاعر کی آزادی کے لیے مہم بھی چلائی جاتی رہی ہے

سعودی وزارت انصاف کے ایک ترجمان نے اس خبر پر فوری طور پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔

فیاض پر یہ جرم ان شواہد کی بنیاد پر سامنے آیا، جس میں استغاثہ نے عینی شاہدین عدالت میں پیش کیے تھے، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے فیاض کو ’خدا، پیغمبر اسلام اور سعودی عرب کو برا بھلا‘ کہتے سنا۔ اس کے علاوہ ان کی پرانی شاعری کے اقتباسات بھی عدالت میں پیش کیے گئے۔

اس سے قبل ذیلی عدالت نے انہیں اس جرم میں چار برس قید اور آٹھ سو کوڑوں کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد یہ مقدمہ سعودی اپیل کورٹ میں چلا گیا، جہاں گزشتہ برس نومبر میں عدالت نے انہیں سزائے موت دے دی، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ عدالت میں سزا کے خلاف اپیل جمع کرائی۔

دوبارہ مقدمہ سننے پر عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ گواہان کے بیانات کی صحت پر شبے کا اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب میں عدالتی نظام شرعی قوانین پر مبنی ہے، جہاں وہابی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سخت ترین نظریات کے حامل مذہبی رہنما بطور جج کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں مذہبی جرائم مثلاﹰ توہین مذہب یا ارتداد کی مد میں موت تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔