1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں شیعہ مسجد پر خودکش حملہ، چار افراد ہلاک

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے مشرقی حصے میں شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد پر جمعے کی نماز کے وقت کیے گئے ایک خود کش بم حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور اٹھارہ دیگر زخمی ہو گئے۔

Polizisten in Riad Saudi-Arabien

یہ خودکش بم حملہ مشرقی شہر الاحساء کے محاسن نامی علاقے میں آج جمعے کی نماز کے وقت کیا گیا

سعودی دارالحکومت ریاض سے 29 جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ خودکش بم حملہ مشرقی شہر الاحساء کے محاسن نامی علاقے میں آج جمعے کی نماز کے وقت کیا گیا۔ اس وقت اس مسجد میں شیعہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نماز کے لیے جمع تھی۔

DW.COM

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ مشرقی سعودی عرب میں، جہاں مقامی آبادی کی اکثریت کا تعلق شیعہ اقلیت سے ہے، یہ حملہ صرف ایک خود کش عسکریت پسند نے کیا۔ اس سے پہلے ملنے والی رپورٹوں میں مبینہ طور پر دو خود کش حملہ آوروں کی طرف سے کیے گئے بم دھماکوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

سعودی نیوز ٹیلی وژن الاخباریہ نے ملکی وزارت داخلہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جمعے کی شام تک ہلاک شدگان کی تعداد چار اور زخمیوں کی تعداد 18 تھی۔ ابتدائی اطلاعات میں مرنے والوں کی تعداد دو اور زخمیوں کی تعداد 20 بتائی گئی تھی، جن میں سے دو زخمی بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

الاخباریہ نے ریاض میں سعودی وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان کے حوالے سے بتایا کہ آج اس حملے کے وقت دراصل موقع پر موجود سکیورٹی اہلکار دو ایسے حملہ آوروں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے، جو الرضا نامی اس عبادت گاہ میں داخل ہو کر وہاں بم دھماکے کرنا چاہتے تھے۔

لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے روکے جانے پر ان میں سے ایک حملہ آور نے خود کو وہیں پر اپنی بارودی جیکٹ کے ساتھ دھماکے سے اڑا دیا۔ اس خود کش بمبار نے یہ دھماکا مسجد میں عین داخلے کی جگہ پر کیا۔

اسی دوران دوسرے عسکریت پسند کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کا فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا، جس میں وہ زخمی ہو گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس حملہ آور کو فوراﹰ گرفتار کر لیا گیا۔ وزارت داخلہ نے بعد میں اپنے بیان میں کہا، ’’اس دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس کے قبضے سے ایک خود کش جیکٹ بھی برآمد کر لی گئی۔‘‘

Symbolbild Polizei Saudi Arabien

ممکنہ حملوں کے پیش نظر سعودی عرب میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے

شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قابض دہشت گرد گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی طرف سے گزشتہ برس سے سعودی عرب کے مشرق میں شیعہ مسلمانوں کی مساجد پر کیے جانے والے ہلاکت خیز بم حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے سلسلے کے ساتھ ہی سعودی حکومت نے اس خطے میں سلامتی کے انتظامات خاص طور پر سخت کر دیے تھے۔

اب اس علاقے میں سرکاری سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ ایسے کمیونٹی گارڈز بھی موجود ہوتے ہیں، جو مثال کے طور پر مسجدوں میں آنے والے افراد پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی تلاشی لیتے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات