سعودی عرب میں دہشت گردی، ایک مشتبہ بمبار پاکستانی | حالات حاضرہ | DW | 05.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں دہشت گردی، ایک مشتبہ بمبار پاکستانی

سعودی حکام کے مطابق پیر کو جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب ہونے والا خود کُش حملہ مبينہ طور پر ایک پاکستانی حملہ آور نے کیا تھا۔

پیر چار جولائی کو سعودی عرب میں ہونے والے تین مربوط خود کُش حملوں میں سے ایک مقدس شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے نزدیک ہوا تھا۔ اِس حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ وزارت داخلہ کے مطابق روضہ رسول کے نزدیک مسجد نبوی کے گراؤنڈ کے باہر ہونے والے حملے میں مزید پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی سرزمین پر یہ دہشت گردانہ واقعات رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آخری ایام میں ایک ایسے وقت پر رونما ہوئے ہیں جب دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مکہ اور مدینہ کی زیارت اور عبادات کے لیے سعودی عرب پہنچے ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق مسجد نبوی کے باہر پارکنگ ایریا میں چند سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص کو دیکھ کر اُس تک پہنچنے کی کوشش کی تو اُس نے خطرہ محسوس کرتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس دھماکے سے پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ دھماکے کے وقت مسجد نبوی کے ارد گرد کی سڑکوں پر ہزاروں مسلمانوں کا ہجوم موجود تھا۔

سعودی عرب میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کش حملے میں خود کو اڑانے والا بمبار پاکستانی تھا۔

امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کش حملے میں خود کو اڑانے والا بمبار پاکستانی تھا۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جدہ میں واقع امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کش حملے میں خود کو اڑانے والا بمبار پاکستانی تھا۔ اس کا نام عبداللہ گلزار خان بتایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ گلزار خان 12 سال سے سعودی عرب میں مقیم تھا اور وہ پرائیوٹ ڈرائیور تھا۔ وہ جدہ میں اپنی بیوی اور والدین کے ساتھ رہ رہا تھا۔ دریں اثناء امریکی محکمۂ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جدہ میں اُس کا عملہ محفوظ ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان جنرل منصور الُترکی نے ریاستی نیوز چینل الاخباریہ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ خودکش حملہ آور امریکی قونصل خانے سے زیادہ ایک مقامی مسجد کے قریب تھا۔ ایس پی اے ایجنسی نے سعودی فوج کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے کہ خود کُش بمبار کی دھماکہ خیز مواد سے لیس بیلٹ جُزوی طور پر پھٹی تھی۔

اُدھر سعودی حکومتی حکام کے قریب آن لائن نیوز ’سبق‘ پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں وقوعہ پر کھڑی ایک ٹیکسی اور ایک گاڑی جس کا دروازہ کھُلا ہوا ہے، کے درمیان ایک انسانی جسم کا بڑا حصہ زمین پر پڑا دکھائی دیتا ہے جبکہ گاڑی پر بے شمار سوراخ نظر آ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں پیر کے دن ہوئے تین مربوط حملوں میں سے تیسرا شیعہ آبادی والے مشرقی علاقے قطیف میں ہوا تھا تاہم تاحال اُس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔