سعودی عرب میں دھماکے: پاکستان میں ریاض پر تنقید سے اجتناب | حالات حاضرہ | DW | 07.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں دھماکے: پاکستان میں ریاض پر تنقید سے اجتناب

سعودی عرب میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے اور ان حملوں کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی مذمت کی ہے۔ کئی صحافیوں اور مذہبی رہنماؤں نے تو سعودی عرب فوج بھیجنے کی اپیلیں بھی کی ہیں۔

Saudi-Arabien, Selbstmordanschlag in Medina

مدینہ میں حال ہی میں کیے گئے خود کش حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر

لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان حملوں کے بعد نہ ہی پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اور نہ سیاسی نشستوں میں اس بات پر بحث کی گئی کہ ماضی میں مذہبی انتہا پسندی پھیلانے میں ریاض کا کوئی کردار رہا ہے؟ اس دوران نہ تو سودی عرب کی قدامت پسند بادشاہت کی طرف سے پاکستانی مذہبی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی مالی ماونت پر کوئی بحث کی گئی اور نہ ہی ریاض کی اپنی غیر جمہوری پالسیوں کو زیرِ بحث لایا گیا جو ماہرین کے مطابق تشدد پسند ذرائع کی ترویج کا سبب بن رہی ہیں۔

حقوقِ نسواں کے لیے کام کر نے والی ممتاز سماجی شخصیت انیس ہارون نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے سیاسی رہنما اور حکمران سعودی عرب پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں؟ ہمارے حکمران وہاں بھیک مانگنے جاتے ہیں۔ ہمارے لاکھوں مزدور وہاں کام کرتے ہیں۔ ہم ان کے تیل پر انحصارکرتے ہیں۔ لیکن جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو ان کو سعودی شاہی خاندان سے کوئی محبت نہیں ہے۔ ان کا احترام مقدس مقامات کے لیے ہے۔ تو سیاست دان ان پر تنقید کریں یا نہ کریں، عوام اور سول سوسائٹی ریاض حکومت کے جابرانہ نظام کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ بحرین، یمن، شام اورعراق میں مداخلت کریں گے، تو آپ کے ملک میں مداخلت کیوں نہیں ہوگی؟ آپ دہشت گردوں، جہادیوں اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی حمایت کریں گے، جو لوگوں کو مختلف لباس پہننے پر، فرقہ رکھنے پر یا مختلف مسلک یا مذہب کی تقلید کرنے پر قتل کرتے ہیں، تو ایسے لوگ آپ کے لیے بھی دردِ سر بنیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی پالیسوں پر نظرِ ثانی کریں اور دنیا بھر میں عسکریت پسندی کی حمایت ترک کر دیں۔‘‘

Saudi-Arabien, Selbstmordanschlag in Medina

مدینہ میں مسجد نبوی کے پس منظر میں بم دھماکے کے بعد اٹھتا ہوا دھواں

ایک سوال کے جواب میں انیس ہارون نے کہا، ’’کم از کم یمن فوج بھیجنے کے مسئلے پر حکومت نے اخلاقی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ ہم سعودی عرب کی حفاظت کیوں کریں؟ ان کے پاس اپنی فوج ہے اور پیسہ ہے۔ وہ یہ کام خود کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے اپنے مسئلے کیا کم ہیں کہ ہم دوسرے ممالک میں اپنی فوج کو کرائے پر لڑائیں۔ ہم کو سعودی عرب سے اس مسئلے پر بھی بات کرنی چاہیے کہ ریاض کے بارے میں یہ تاثر کیوں پایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں جہادی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی مدد کرتا ہے۔ پارلیمنٹ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں، جو ان مسائل پر بھی اٹھتی ہیں۔‘‘

اسی بارے میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر کے صدر، ڈاکٹر توقیر گیلا نی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ محمود اچکزئی کے ایک بیان پر سب سیاست دان اور میڈیا ان پر چیخنا شروع ہوگئے، لیکن سعودی عرب میں دھماکوں کے بعد کسی سیاست دان کو اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس قدامت پسند بادشاہت سے یہ کہہ سکے کہ وہ اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں ایک مقدس گائے ہے۔ ریاض حکومت نے پوری دنیا میں انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ مدرسوں، انتہاپسند اور فرقہ ورانہ تنظیموں اور جہادی عناصر کی مالی معاونت کی۔ یہاں تک کہ اس نے داعش کو بھی پھلنے پھولنے کے لیے وسائل فراہم کیے۔ ریاض حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے آج مشرقِ وسطیٰ تباہی کے دہانے پر ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت کے ناسور کو پھیلانے اور جہادی کلچر کو فروغ دینے میں بھی سعودی ہاتھ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسی تنظیمیں، جنہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جیسا کہ جماعت الدعودہ، ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ یہ جہادی تنظیمیں کشمیر اور پاکستان کے طول و عرض میں دندناتی پھر رہی ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاض حکومت اپنی پالیساں تبدیل کرے اور جہادی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کی معاونت ختم کرے ورنہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں حالات خراب تر ہوجائیں گے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا، ’’اگر سعودی عرب میں مزید ایسے حملے ہوتے ہیں، تو سعودی نواز تنظیمیں پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیں گی کہ وہ مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجیں۔ کچھ تنظیموں اور میڈیا میں موجود سعودی نواز افراد نے تو پہلے ہی یہ شور مچانا شروع کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ شور زیادہ بلند بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن سعودی عرب فوج بھجوانے کا کوئی بھی ممکنہ فیصلہ تباہ کن ہوگا کیونکہ ریاض فرقہ ورانہ جنگ لڑنا چاہتا ہے اور اگر اس جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی کوئی مدد کی، تو خود پاکستان بہت زیادہ انتشار کا شکار ہوجائے گا۔‘‘

اسی بارے میں سینیئر صحافی ناصر محمود نے کہا، ’’ترکی نے داعش کو نظر انداز کیا، یہ سمجھ کر کہ وہ انقرہ کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔ لیکن بعد میں انقرہ کو احساس ہوگیا کہ داعش کسی کی بھی نہیں۔ لہٰذا سعودی عرب، پاکستان اور دوسرے ممالک کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ داعش کسی کی دوست نہیں ہے۔ تمام ممالک کو مل کر اس دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کے کچھ دھڑوں نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے۔ لہٰذا اسلام آباد کو ان ممالک سے فاصلہ رکھنا چاہیے، جو درپردہ داعش کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

DW.COM