1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں خود کش حملے، بارہ پاکستانیوں سمیت انیس گرفتار

سعودی حکام رواں ہفتہ کے دوران مسجد نبوی سمیت تین مقامات پر کیے گئے خودکش حملوں کی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی حکام نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک درجن پاکستانیوں سمیت انیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعرات سات مئی کی شام میں سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مسجدِ نبوی کے پارکنگ ایریا میں کیے گئے خودکش حملے کے حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے۔ چھبیس برس کے حملہ آور سعودی باشندے کا نام نائر مجیدی البلاوی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق مسجد نبوی کی پارکنگ میں حملہ آور نے اپنی بارودی جیکٹ کو اُس وقت اڑایا تھا جب سکیورٹی اہلکار اُس کے حوالے سے چونکنا ہونے کے علاوہ اُسے مشکوک خیال کرتے ہوئے اُس کی جانب بڑھ رہے تھے۔

سعودی وزارت داخلہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ پیر کے روز کیے گئے تین خودکش حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں کم از کم انیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان انیس افراد میں سات سعودی اور بارہ پاکستانی ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ نے اِس مناسبت سے کوئی اور تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ ان تینوں حملوں میں صرف مسجدِ نبوی کے پارکنگ ایریا میں چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ قطیف اور جدہ میں صرف حملہ آور اپنے بارودی مواد کا شکار ہوئے۔

Saudi-Arabien, Selbstmordanschlag in Medina

احملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک درجن پاکستانیوں سمیت انیس افراد کو گرفتار کیا ہے

پیر ہی کے روز جدہ میں امریکی قونصل خانے اور ایک دوسری مسجد کے قریب کیے گئے حملے کے بمبار کی شناخت کرنے کے بعد بتایا گیا کہ وہ پاکستانی عبداللہ گلزار خان تھا۔ اُس کے پاس سعودی عرب میں ملازمت اور رہائش رکھنے کا ’اکامہ‘ یا اجازت نامہ تھا۔ چونتیس سالہ پاکستانی حملہ آور گزشتہ بارہ برسوں سے سعودی بندرگاہی شہر میں ڈرائیور کی ملازمت کر رہا تھا۔ اُس کا خاندان اور والدین بھی اُس کے ساتھ رہ رہے تھے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے شہر قطیف میں تین خودکش حملہ آور شریک تھے اور اُن کے ناموں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ تینوں حملہ آوروں کی عمریں بیس سے پچیس برس کے درمیان ہیں۔ حملہ آور عبدالرحمان صالح، ابراہیم صالح محمد اور عبدالکریم الحیسنی تھے۔ قطیف کے حملہ آوروں کی قومیت نہیں بتائی گئی۔

اِن حملوں کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ کسی انتہا پسند گروپ نے اِن کی ذمہ داری ابھی تک قبول نہیں کی ہے۔ ماضی میں کیے جانے والے حملوں کی ذمہ داری شام اور عراق میں سرگرم عسکریت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا اُس کا کوئی حمایتی گروپ قبول کرتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں اندازے لگائے گئے ہیں کہ پیر کے ان تینوں حملوں کے پسِ پردہ بھی یہی جہادی تنظیم ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے بھی ان حملوں کی مذمت کی تھی۔ سعودی عرب کی کل تیس ملین آبادی میں غیرملکی ورکروں کی تعداد نو ملین کے لگ بھگ ہے۔ ان غیر ملکیوں میں پاکستانیوں کی خاصی بڑی تعداد ہے جو مختلف ملازمتیں کر رہے ہیں۔

DW.COM