1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب میں خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو

سعودی شہر جدہ میں نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب سے ساحل پر چہل قدمی کرنے والی دو خواتین کا پیچھا کرتے اور انہیں ہراساں کیے جانے کی ویڈیو دنیا بھر میں دیکھی جا رہی ہے۔

یو ٹیوب پر گزشتہ ماہ اپ لوڈ کی جانے والی یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا۔ خیال رہے کہ اسلامی ریاست سعودی عرب میں مردوں اور خواتین کے اختلاط کو روکنے کے لیے سخت ترین قوانین نافذ ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی طرف سے روایتی عبایا اور چہرے پر نقاب لیے ہوئے ان خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے مردوں کو خوب لتاڑا جا رہا ہے۔ جبکہ ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں غیض و غضب کے اظہار کے بعد سعودی پولیس کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا جبکہ اطلاعات کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے چھ لڑکوں کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔

صورتحال میں نیا موڑ

چند دن بعد ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں بظاہر وہی دو خواتین دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ ویڈیو ایک نیم سرکاری نیوز ویب سائٹ کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی جسے متعدد پرائیویٹ ٹیلی وژن چینلز مثلاﹰ ’روتانا ٹی وی‘ نے بھی دکھایا۔ اس ویڈیو کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ پہلے سے یو ٹیوب پر موجود ویڈیو سے کچھ دیر قبل ریکارڈ کی گئی۔

اس ویڈیو میں ان خواتین کو چار پہیوں والے موٹر سائیکل پر سواری کرتے دکھایا گیا ہے جبکہ نوجوان انہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون ان لڑکوں کی طرف ایک ’اکال‘ اچھالتی ہے جس پر یہ لڑکے قہقہے لگاتے اور ان پر آوازے کستے دکھائی دیتے ہیں۔ اکال اس سیاہ رسے کی طرح کے بند کو کہتے ہیں جو عرب مرد اپنے سر کے کپڑے کے اوپر باندھتے ہیں۔

یہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد خواتین کے بارے میں دیکھنے والوں کی رائے مظلوم کے طور پر باقی نہیں رہی۔ بلکہ ان خواتین کے رویے کو نامعقول اور مردوں کو اکسانے والا قرار دیا جانے لگا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے

خیال رہے کہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی عوامی سطح پر یا پرائیویٹ طور پر ملاقات کرنے پر پابندی ہے اور پھر خواتین کو روایتی پردے میں بھی رہنا ہوتا ہے جس میں عام طور پر چہرے کا نقاب بھی شامل ہے۔ اس عرب ملک میں خواتین کو کار چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے اور اسی طرح خواتین کا کواڈ بائیک یا چار پہیوں والا موٹر سائیکل چلانا بھی بہت سے صوبوں میں ممنوع ہے۔

سعودی حکومت کے جوڈیشل ایڈوائزر یحیٰ الشاہرانی نے سبق نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے خواتین کے رویے کو مردوں کو اکسانے والا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات عدل کے خلاف ہو گی کہ لڑکوں سے تو ان کے رویے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے جبکہ ان خواتین کو جن کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کا جواز بنتا ہے، انہیں چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے ان نوجوان خواتین کے والدین کو بھی اس بات کا ذمہ داری ٹھہرایا ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو ایک عوامی جگہ پر مردوں کے ارد گرد گھومنے پھرنے کی اجازت دی۔

تاہم جدہ سے تعلق رکھنے والے مصنف اور تجزیہ کار خالد المعینہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں بالآخر خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی تعلیم میں اسلام کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں غلط اور درست کا تصور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔