1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں تین پاکستانیوں کے سر قلم کر دیے گئے

سعودی حکومت نے تین ایسے پاکستانیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا ہے جن پر ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔ یوں رواں سال اس اسلامی ملک میں چھبیس مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے نو مارچ بروز اتوار سعودی میڈیا کے حوالے سے تصدیق کر دی ہے کہ اس اسلامی ملک میں تین پاکستانیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں تین ایرانیوں کے سر قلم کر دیے گئے

سعودی عرب: ایک اور پاکستانی کا سر قلم، مجموعی تعداد نوّے

سفارتکاروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار گھریلو ملازمائیں

سرکاری نیوز ایجنسی SPA کے مطابق ان پاکستانیوں پر الزامات ثابت ہو گئے تھے کہ انہوں نے ہیروئن اسمگل کرنے  کی کوشش کی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ ان مجرمان نے اپنے معدوں میں ہیروئن چھپا رکھی تھی تاہم ملکی پولیس نے انہیں سعودی عرب پہنچنے پر پکڑ لیا تھا۔

سعودی حکومت کے مطابق جن مجرمان کا سر قلم کیا گیا ہے، ان میں محمد اشرف  ، محمد عارف  اور محمد افضل  شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں پاکستانی شہری تھے۔

سعودی سرکاری نیوز ایجنسی SPA نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس اس ملک میں 153 مجرمان کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان اعدادوشمار کی تصدیق کی تھی۔

گزشتہ برس جن افراد کے سر قلم کیے گئے، ان میں شعیہ رہنما نمر النمر بھی شامل تھے۔

Sheikh Nimr al-Nimr bei der Festnahme 08.07.2012 (AFP/GettyImages)

گزشتہ برس جن افراد کے سر قلم کیے گئے، ان میں شعیہ رہنما نمر النمر بھی شامل تھے

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب میں 158 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا تھا، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کسی ایک برس میں سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

سعودی عرب میں سخت اسلامی قوانین پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس لیے قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مسلح ڈاکے، جنسی زیادتی کے جرائم ثابت ہونے پر سزائے موت دے دی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں مرتد کا بھی سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

DW.COM