1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب میں تین ایرانیوں کے سر قلم کر دیے گئے

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں سزا یافتہ تین ایرانی شہریوں کے سر قلم کر دیے گئے ہیں۔ یوں ان مجرموں کی تعداد اب ایک سو پینتالیس ہو گئی ہے جنہیں سعودی عرب میں اس سال سزائے موت دی جا چکی ہے۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے اتوار آٹھ نومبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جن ایرانی باشندوں کو سنائی گئی سزائے موت پر آج عملدرآمد کر دیا گیا، انہوں نے سمندری راستے سے بہت بڑی مقدار میں حشیش سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔

اے ایف پی نے سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے نشر کردہ ملکی وزارت داخلہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان تینوں ایرانی مجرموں کو یہ سزا ملک کے مشرقی بندرگاہی شہر دمام میں دی گئی، جہاں حسب روایت تلوار سے ان کے سر قلم کر دیے گئے۔

بتایا گیا ہے کہ ان تین مجرموں کو دی گئی سزائے موت کے ساتھ سعودی عرب میں اب ایسے مقامی اور غیر ملکی مجرموں کی مجموعی تعداد 145 ہو گئی ہے، جنہیں اس سال یکم جنوری سے اب تک سزائے موت دی جا چکی ہے۔ ان قریب ڈیڑھ سو مجرموں میں سے بہت بڑی اکثریت غیر ملکیوں کی تھی۔ اس کے برعکس پورے 2014ء میں خلیج کی اس عرب ریاست میں ایسے مجرموں کی تعداد 87 رہی تھی، جنہیں سزائے موت دی گئی تھی۔

قانونی امور اور انسانی حقوق کے کئی ماہرین کی طرف سے اس بارے میں بار بار تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت شفاف اور منصفانہ طور پر نہیں کی جاتی۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں قائم انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس سال سب سے زیادہ مجرموں کو سزائے موت دینے کے حوالے سے بین الاقوامی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ اس فہرست میں سعودی عرب چین اور ایران سے تو کافی پیچھے ہے لیکن عراق اور امریکا سے بہت آگے۔

سعودی عرب کے بہت سخت اسلامی شرعی قوانین کے مطابق قتل، منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ، مسلح ڈکیتی، جنسی زیادتی اور کسی مسلمان کا مرتد ہو جانا ایسے جرائم ہیں، جن کی سزا موت ہے۔ کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو سزائے موت دینے کے لیے وہاں سب سے زیادہ مروجہ طریقہ یہ ہے کہ تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

DW.COM