1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سعودی عرب میں ایرانی جاسوسوں کے خلاف مقدمہ انصاف کا مذاق‘

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سنی اکثریتی ریاست سعودی عرب میں جن بتیس افراد پر ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے، وہ ’انصاف کے ساتھ مذاق‘ ہے۔ تقریباﹰ سبھی ملزم شیعہ مسلمان ہیں۔

دبئی سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ تمام 32 ملزمان مرد ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے مرتکب ہوئے تھے۔ نیو یارک میں قائم اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ ان ملزمان میں سے ایک ایرانی ہے، ایک افغان شہری اور باقی تمام 30 سعودی عرب کے مقامی باشندے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ملزمان میں شامل کُل تیس سعودی شہریوں میں سے 29 کا تعلق ملک کی شیعہ مذہبی اقلیت سے ہے اور جس طرح ان کے خلاف سعودی عرب کی حریف اور خطے کی شیعہ اکثریتی آبادی والی ریاست ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے، وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں کس طرح ’انصاف کا مذاق‘ اڑایا جا رہا ہے۔

اس مقدمے میں متعدد ملزمان کے لیے اس سال مارچ کے مہینے تک وکیل صفائی کے فرائض انجام دینے والے ایک سعودی ماہر قانون طہٰ الحاجی نے ہیومن رائٹس واچ (HRW) کو بتایا کہ سعودی حکام نے ان ملزمان کے خلاف فروری میں مقدمے کی باقاعدہ عدالتی کارروائی اچانک شروع کر دی تھی۔

ایچ آر ڈبلیو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سعودی وکیل صفائی کے مطابق ان درجنوں ملزمان کے خلاف جاسوسی کے مقدمے اور اس کی عدالتی سماعت کے وقت کا تعلق اس شدید دوطرفہ کشیدگی سے ہو سکتا ہے، جو گزشتہ چند مہینوں سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں پائی جاتی ہے۔

ریاض حکومت بار بار تہران پر یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ ایران خطے میں مداخلت کر رہا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں بھی کہ شام اور یمن کے خونی تنازعات میں یہ دونوں ملک ان تنازعات کے متحارب حریفوں کے حامیوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کی مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں۔

Saudi Arabien Botschaft Iran Protest

تہران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل مظاہرین نے سعودی سفارت خ‍انے کو آگ لگا دی تھی

سعودی عرب اور ایران کے باہمی تعلقات اس وقت بحران کا شکار ہو گئے تھے جب سعودی عرب کے ایک شیعہ اقلیتی مذہبی رہنما آیت اللہ نمر النمر کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا، جس کے بعد تہران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل مظاہرین نے سعودی سفارت خ‍انے کو آگ لگا دی تھی۔ ان واقعات کے بعد سے تہران اور ریاض کے مابین سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں جن 32 ملزمان کو حکام نے 2013 سے گرفتار کر رکھا ہے، ان میں سے 25 کے لیے استغاثہ کی طرف سے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک ’عدل کے نام پر مذاق‘ اس وجہ سے ہے کہ حکام نے نہ تو ان ملزمان کو اپنے وکلاء صفائی سے ملنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی وکلاء صفائی کو وہ ضروری عدالتی دستاویزات مہیا کی گئی ہیں، جن کی مدد سے وہ خود کو ملزمان کے دفاع کے لیے تیار کر سکتے تھے۔

ان ملزمان کو اپنے خلاف بغاوت کے علاوہ ایسے الزمات کا بھی سامنا ہے، جو غیر واضح ہیں، مثال کے طور پر ’مظاہروں کی حمایت‘، ’سعودی ریاست کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش‘ اور ’شیعہ مسلک کو پھیلانے کی کاوشیں‘۔