سعودی عرب فوج بھیجنے سے کیا ملک میں فرقہ واریت بڑھے گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 14.03.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب فوج بھیجنے سے کیا ملک میں فرقہ واریت بڑھے گی؟

پاکستان کی طرف سے سعودی عرب فوج بھیجنے کی خبر پر ملک میں مذہبی جماعتیں فرقہ وارانہ نقطہء نظر اپنا رہی ہیں۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

مڈل ایسٹرن آئی نامی آن لائن نیوز ایجنسی میں چھپنے والی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھیج دی ہے، جو اس ملک کے جنوبی صوبے میں تعینات کی جائے گی۔ یہ علاقہ حوثی باغیوں کے حملوں کی زد میں بھی آتا رہا ہے۔ یہ خبر کل یعنی بروز پیر کو شائع ہوئی تھی لیکن پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر ابھی تک اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔

ڈوئچے ویلے نے جب اس خبر کے حوالے سے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرِ اعظم کے ترجمان مصدق ملک سے رابطہ کیا تو انہوں نے نہ تو فون ریسو کیا اور نہ ہی ایس ایم ایس اور واٹس اپ پر بھیجے گئے سوالات کے جوابات دیے۔ تاہم مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’میں ایسے کسی حکومتی فیصلے سے آگاہ نہیں ہوں۔ میرے خیال میں یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ایسا کوئی فیصلہ کیا بھی گیا ہے یا نہیں۔‘‘ اسی طرح سینیٹ کی ایک انتہائی اہم کمیٹی کے چیئرمین نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایسے کسی حکومتی فیصلے سے لا علمی کا اظہار کیا۔

Pakistan Prozess gegen Nawaz Sharif Verteidigungsminster Khawaja Muhammad Asif

حکومت پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے


اس غیر مصدقہ خبر نے ملک کی مذہبی جماعتوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ سعودی عرب نواز تنظیم تحفظِ حرمین شریفین کے رہنما حافظ اُنیب فاروقی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب پوری اسلامی دنیا کا محور و مرکز ہے۔ حرم شریف کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس فیصلے کے ساتھ ہیں۔ اگر سعودی عرب کی جغرافیائی وحدت پر کوئی آنچ آتی ہے تو پاکستان کو اس ملک کا ساتھ دینا چاہیے۔ صرف ایران نواز عناصر فوج بھیجنے کی مخالفت کریں گے۔ ایران خود یمن میں مداخلت کر رہا ہے اور وہ دوسرے ممالک پر مداخلت کے الزامات لگاتا ہے۔ ہمارے خیال میں فوج بھیجنے سے کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پاکستان میں سر نہیں اٹھائے گی۔ یہ سب پروپیگنڈہ ہے۔‘‘
لیکن مجلس وحدتِ مسلمین کے رہنما سمجھتے ہیں کہ ایسا حکومتی اقدام ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ اس تنظیم کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’پہلے بھی سعودی عرب نے یہ ہی کہا تھا کہ ہماری جغرافیائی وحدت خطرے میں ہے لیکن پاکستانی پارلیمنٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ ملک میں مختلف فرقوں کے لوگ رہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں ایسے کسی حکومتی اقدام سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی، جس سے ہمیں نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آرمی پہلے ہی رد الفساد میں مصروف ہے اور اس وقت کسی اور جنگ میں کودنا مناسب نہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہم ایسے کسی بھی فیصلے کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ کل ہم تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو خط لکھ رہے ہیں، جس میں اس فیصلے کے خلاف ہم انہیں اپنے نقطہء نظر سے آگاہ کریں گے۔‘‘

Pakistan Khyber Anschlag auf christliche Siedlung

پاکستانی پارلیمنٹ نے اس سے قبل بھی سعودی عرب فوج بھیجنے کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی


کچھ تجزیہ کار اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اگر پاکستان فوج بھیج رہا ہے تو حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنا پڑے گی کہ فوج وہاں کیوں اور کتنے عرصے کے لیے بھیجی جا رہی ہے؟ اگرعوام کو یہ لگا کہ یہ جنگ فرقہ وارانہ ہے تو پھر پاکستان کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘
فرحان حنیف نے مزید کہا کہ عام طور پر بیرونی مداخلت کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے۔’’امریکا نے ویت نام، عراق اور افغانستان میں مداخلت کی اور نتائج سب کے سامنے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی کسی بھی مداخلت سے بچنا چاہیے۔‘‘
لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں فوج کا بھیجا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ سابق سفیر فوزیہ نسرین نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’فوج کا بھیجا جانا پاکستانی پالیسی کا حصہ ہے۔ پارلیمنٹ نے یہ کہا تھا کہ فوجیں یمن نہ بھیجی جائیں لیکن سعودی عرب فوج بھیجنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم اگر ہم کسی ایسے اتحاد کا حصہ بنے جو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہا ہے تو پھر ہمارے لیے مسائل پیدا ہوجائیں۔‘‘ فوزیہ نسرین نیپال اور پولینڈ میں پاکستانی سفیر رہ چکی ہیں۔