1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب سے مزدورں کے نکالنے پر پاکستانی حکومت خاموش کیوں؟

سعودی عرب سے حالیہ مہینوں میں ملک بدر کیے جانے والے ہزاروں مزدورشدید معاشی بدحالی کا شکا ر ہیں جب کہ انکے گھرانے پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ اس صورتحال میں اسلام آباد حکام کیوں خاموش ہیں؟

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے، پاکستان اسٹڈی سینٹر، قائد اعظم یونیورسٹی، سے تعلق رکھنے والے مشتاق گاڈی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں یمن کی جنگ میں اگر پاکستان شرکت کرتا تو ہمارے سعودی عرب سے تعلقات مزید خوشگوار ہوتے لیکن ہمارے انکار کی وجہ سے اب ریاض کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ پھر وہاں کی افرادی قوت بھی ہم سے زیادہ ہنر مند ہے۔ تو اس انکار کی وجہ سے بھی ہمارے تعلقات میں خرابی آئی ہے۔‘‘
معروف تجزیہ نگار امتیاز عالم نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سعودی عرب کے ساتھ ہمارے اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ وہ خادمینِ حرمین شریفین ہیں۔ ہمارے لاکھوں افراد وہاں کام کر رہے ہیں، جن کا روزگار اُس ملک سے وابستہ ہے۔ ہمارے پاس کوئی لیوریج ہی نہیں ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم احتجاج کریں گے یا اس سعودی اقدام کی مذمت کریں گے تو وہ مزید مزدوروں کو نکالیں گے۔ تو میرے خیال میں حکومت اسی وجہ سے ڈری ہوئی ہے۔‘‘


لیکن ن لیگ اس تاثر کو زائل کرتی ہے۔ پارٹی کے ایم این اے اسلم بودلہ نے اس ملک بدری پر اپنے تاثرات کا اظہار کچھ یوں کیا، ’’کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کیونکہ سعودی عرب نے میاں صاحب کی مدد کی تھی تو ہم اُن سے ڈریں گے۔ میں اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ ہزاروں مزدوروں کو اس طرح نکالنا نا انصافی و زیادتی ہے۔ میں اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں بھی اٹھاؤں گا اور اپنی قیادت سے بھی بات کروں گا۔ نون لیگ غریبوں کی جماعت ہے، تو ہم ان مزدوروں کے مسائل کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔‘‘
نون لیگ کی رہنما عظمی بخاری نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ معاملہ بنیادی طور پر مزدوروں اور کمپنیوں کے درمیان ہے۔ اس میں دو حکومتوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ زیادہ تر مزدور ایک ایسی کمپنی سے نکالے گئے ہیں جو بند ہوگئی ہے۔ میں اس تاثر کو رد کرتی ہوں کہ حکومت سعودی عرب کے دباؤ میں ہے یا نون لیگ اس لیے اس مسئلے پر نہیں بول رہی کہ میاں صاحب کی ریاض نے ماضی میں مدد کی تھی۔ اس مسئلے کو ایسے تناظر میں دیکھا نہیں جانا چاہیے۔ سفارت کاری اور یہ مسئلہ دو مختلف چیزیں ہیں اور ان کو آپس میں ملانا نہیں چاہیے۔‘‘

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب سے بے دخل کیے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم انتالیس ہزار ہے لیکن ان جلاوطن مزدروں میں سے کچھ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ تعداد اس سے بھی بہت زیادہ ہے۔

سوات کے علاقے مٹہ سمبٹ سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ خورشید علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں بیس ماہ پہلے سعودع عرب گیا تھا۔ میں وہاں چوکیدار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ مینگورہ کے ایک ایجنٹ نے مجھے وہاں بھیجا اور اقامہ کے لیے آٹھ ہزار ریال لیے۔ میں نے مجموعی طور پر انیس ہزار یال خرچ کئے۔ مجھے وہاں ڈھائی ہزار ریال دیئے جاتے تھے۔ رہائش کمپنی کی طرف سے تھی جبکہ کھانا پینا خود کرنا پڑتا تھا۔ جب میں وہاں گیا تو کفیل نے ملاقات نہیں کی بلکہ اس کے آفس میں ایک مصری نے مجھے کہا تمہارے پاس اقامہ ہے جہاں چاہو کام کرو۔ کفیل سے ملنے کی تم کو کیا ضرورت ہے۔ میں نے چار ہزار ریال دے کر اس سال اپنے لیے پھر اقامہ لیا۔ لیکن مجھے پولیس نے پکڑ لیا اور الزام لگایا کہ میں کفیل کے بغیر کام کر رہا ہوں۔ میرے کفیل نے پہلے کہا کہ وہ تھانے آئے گا۔ بعد میں مجھ سے کہا کہ آٹھ ہزار ریال دو تو میں تھانے آؤں گا ورنہ یہ تمہیں جیل میں ڈالیں گے اور پھر ڈیپورٹ کردینگے۔ میں آٹھ ہزار نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے مجھے جیل میں ڈالا  گیا اور پھر مجھے ملک بدر کر دیا گیا۔ اب میں معاشی طور پر تباہ ہوں۔ اپنی ایک بہن، تین بھائی اور بیوی بچوں کا کفیل ہوں لیکن بے روزگار ہوں۔ میں اتنے پیسے خرچ کر کے سعودی عرب گیا اور برباد ہوکر واپس لوٹا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں خورشید نے کہا، ’’سعودی عرب میں مزدوروں کا برا حال ہے۔ ہزاروں کیا لاکھ سے زیادہ مزدور واپس آئے ہوں گے۔ ہزاروں جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ صرف میرے بیرک میں دوسو سے زائد پاکستانی تھے۔ سعودیہ میں آپ کفیل کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ بارہ بارہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ ایک ایک کمرے میں دس دس افراد رہتے ہیں۔‘‘
اسی طرح کے واقعات کوٹلی، آزاد کشمیر ، کے رہائشی تیس سالہ محمد مسکین نے ڈی ڈبلیو کو بتائے۔ ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے مسکین نے کہا،
''میں بیس ماہ پہلے دوسال کے ویزے پر سعودی عرب گیا تھا اور وہاں بڑھئی کے طور پر کام کرتا تھا۔ میری ماہانہ تنخواہ پندرہ سو ریال تھی۔ میرا ویزہ ریاض کا تھا میں رینٹ پر مدینے میں کام کرتا تھا۔ پھر مجھے گرفتار کر لیا گیا اور اب میں چھ ماہ کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکتا۔ سعودی عرب معاشی بد حالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘


لاہور سے تعلق رکھنے والے عبدالغفور، جو سعودی عرب میں تعمیرات اور ماربل کے کاروبار سے وابستہ ہیں، نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یمن کی جنگ کی وجہ سے سعودی عرب کے معاشی حالات خراب ہورہے ہیں۔ گزشتہ برس کرین گرنے کے حادثے میں بن لادن کمپنی کی غفلت سامنے آئی، جس کی وجہ سے کمپنی کے کئی ٹھیکے منسوخ ہوئے اور اس نے ہزاروں مزدوروں کو نکالا۔ اس کے علاوہ مصر اورتیونس میں احتجاج کے بعد، سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو اس قسم کے احتجاج سے دور رکھنے کے لیے کئی طرح کی مراعات دیں، جس سے خزانے پر بوجھ پڑا اور حکومت کوبہت سی کمپنیاں بند کرنی پڑی۔ میرے خیال میں ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی مزدورں کو نکالا گیا ہے۔ دس سے پندرہ لاکھ پاکستانی مزدور اب بھی وہاں کام کر رہیں ہیں۔ جو واپس بھیجے گئے ہیں وہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ بہتر مستقبل کی آس میں قرضے لے کر باہر جاتے ہیں۔‘‘