1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب : درجنوں غیر ملکی کارکنوں کو قید اور کوڑوں کی سزا

سعودی عرب میں اجرتوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرنے والے 49 غیر ملکی کارکنوں کو قید اور کوڑوں کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ یہ سزائیں ہنگاموں کے لیے اُکسانے اور احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرنے پر سنائی گئی ہیں۔

Saudi Arabien Ausländische Arbeite auf einer Baustelle in Riad (Getty Images/AFP/F. Nureldine)

سعودی دارالحکومت ریاض میں غیر ملکی کارکن ایک زیرِ تعمیر عمارت میں کام کرتے ہوئے

یہ تفصیلات نیوز ایجنسی اے ایف پی کی منگل تین جنوری کو دارالحکومت ریاض سے بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق ان غیر ملکی کارکنوں نے کئی مہینے پہلے سعودی بن لادن گروپ کی جانب سے اجرتوں کی عدم ادائیگی پر مظاہرے کیے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق اخبارات ’الوطن‘ اور ’العرب‘ نے اِن اُنچاس غیر ملکی کارکنوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اس طرح یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ سزائیں پانے والے یہ کارکن کن کن ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

’الوطن‘ اخبار نے، جو بن لادن کیس پر گزشتہ سال کے اوائل سے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، بتایا ہے کہ ان غیر ملکی کارکنوں کی ایک نامعلوم تعداد کو پبلک پراپرٹی کو تباہ کرنے اور بد امنی کو ہوا دینے کے الزام میں چار چار ماہ کی قید اور تین تین سو کوڑوں کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دیگر کو مکہ کی ایک عدالت کی جانب سے پنتالیس روز کی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

تعمیراتی شعبے میں سرگرم یہ غیر ملکی کارکن زیادہ تر بن لادن گروپ اور ایک اور کمپنی اوگر کے ساتھ منسلک تھے۔ گزشتہ سال معدنی تیل سے ہونے والی آمدنی میں بڑے پیمانے پر کمی کے باعث سعودی عرب اُن پرائیویٹ کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر سکا تھا، جنہیں اُس نے اپنے مختلف منصوبے سونپ رکھے ہیں۔

گزشتہ سال مئی میں ’عرب نیوز‘ نے بتایا تھا کہ اجرتیں نہ ملنے پر کئی غیر ملکی کارکنوں نے مکہ میں بن لان گروپ کی بہت سی بسوں کو آگ لگا دی تھی۔ تب حکام نے سات بسوں کے نذرِ آتش کیے جانے کی تصدیق کی تھی لیکن اس کا سبب نہیں بتایا تھا۔

Zum Thema - Zwei Tote bei Krawallen illegaler Einwanderer in Saudi-Arabien (Reuters/Faisal Al Nasser)

سعودی عرب میں ابھی بھی ہزارہا غیر ملکی مزدور گزشتہ کئی مہینوں سے اپنی اجرتوں کی ادائیگی کے منتظر ہیں

اے ایف پی کے مطابق اُس نے اس حوالے سے بن لادن گروپ کے ترجمان کے ساتھ رابطے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔ یہ کمپنی اب تک سعودی عرب میں بڑی بڑی عمارات تعمیر کر چکی ہے۔ بن لادن گروپ اَسّی سال سے بھی زائد عرصہ قبل دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کے والد نے قائم کیا تھا۔

گزشتہ سال کے اواخر میں بن لادن گروپ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ستّر ہزار بے روزگار ملازمین کو ادائیگی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ تب کہا گیا تھا کہ جیسے ہی کمپنی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات طے کر لے گی، اُن ملازمین کو بھی ادائیگی کر دی جائے گی، جو بدستور کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

واضح رہے کہ وہ ہزارہا کارکن بھی اپنی اجرتوں کی ادائیگی کے منتظر ہیں، جو لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کی قیادت میں قائم کمپنی سعودی اوگر کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اوگر کے ساتھ وابستہ ایک کارکن نے دسمبر میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ اُسے کچھ رقم تو مل گئی ہے لیکن ابھی بھی پانچ مہینوں کی تنخواہ ملنا باقی ہے۔

نومبر میں سعودی حکومت نے کہا تھا کہ وہ نجی کمپنیوں کو ادائیگی ’آئندہ مہینے‘ کر دے گی تاہم بائیس دسمبر کو سعودی وزیر خزانہ محمد علیا دین نے 2017ء کا قومی بجٹ جاری کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ادائیگی ’ساٹھ روز کے اندر اندر‘ کر دی جائے گی۔