1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب: خاتون کو ڈرائیونگ کرنے پر کوڑوں کی سزا

ایک سعودی عدالت نے ایک خاتون کو گاڑی چلانے پر پابندی کی خلاف ورزی کی پاداش میں دس کوڑوں کی ’سزا‘ سنائی ہے۔

default

 سعودی سلطنت میں خواتین گاڑی نہیں چلا سکتیں۔ سعودی عرب کی قدامت پسند حکومت عورتوں کے گاڑی چلانے کو غیر اسلامی قرار دیتی ہے۔ منگل کے روز ایک سعودی عدالت نے شَیما نامی خاتون کو ڈرائیونگ کرنے کے ’جرم‘ میں دس کوڑوں کی سزا سنائی۔ شیما نے ڈرائیونگ پر بین کی خلاف ورزی جولائی کے مہینے میں کی تھی۔ دو مزید خواتین پر بھی اسی حوالے سے الزامات ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون، نجلہ حریری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’مجھے سعودی بادشاہ کو چیلنج کے الزام میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔ میں نے ایک حلف نامے پر دستخط کیے ہیں کہ میں اب گاڑی نہیں چلاؤں گی۔ میرا گاڑی چلانے کا عمل مجبوری کی بنا پر تھا اور اس میں کسی بغاوت کا عنصر نہیں تھا۔‘‘

Saudi Arabien Frauen Internetcafe

سعودی خواتین کو روز مرہ کی زندگی میں متعدد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے

خیال رہے کہ سعودی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے ایک اعلان میں سعودی خواتین کو انتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق دیا تھا۔ اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے علاقائی نائب ڈائریکٹر فلپ لوتھز کا کہنا ہے: ’’کونسل انتخابات میں خواتین کو ووٹ کا حق دینا ایک اچھا فیصلہ ہے، لیکن اگر آپ عورتوں کو ڈرائیونگ تک نہیں کرنے دیں گے اور انہیں اس بات کی سزا کوڑے مار کر دی جائے گی تو پھر سعودی بادشاہ کے اصلاحات کے دعوے کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ مئی کے مہینے میں بعض سعودی خواتین نے ’ویمن ٹو ڈرائیو‘ نامی ایک مہم شروع کی تھی جس کے بعد سعودی عرب کے بعض شہروں کی سڑکوں پر گاڑی چلا کر ان خواتین نے اپنا احتجاج رقم کروایا تھا۔ ان خواتین کا مؤقف ہے کہ ڈرائیونگ پر پابندی کے باعث ان کو اپنے مرد رشتہ داروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور مردوں کی غیر موجودگی کی صورت میں ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات