سعودی عرب، حکومت کے حامی شیعہ جج کی لاش برآمد | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب، حکومت کے حامی شیعہ جج کی لاش برآمد

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سعودی پولیس کو حکومت کے حامی ایک لاپتہ شیعہ جج کی لاش ملی ہے۔ مذکورہ جج کی لاش کی باقیات فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور مشتبہ دہشت گرد کی ہلاکت کے بعد ملیں۔

محمد الجیرانی نامی جج کی باقیات سعودی عرب کے صوبے عوامیہ کے ایک قصبے میں واقع ایک فارم سے ملی ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ فارم پر چھاپہ منگل کے روز مارا گیا اور بعدازاں ہونے والے ڈی این اے ٹسٹ سے پتہ چلا کہ دریافت ہونے والی لاش لاپتہ شیعہ جج شیخ جیرانی کی تھی۔

وزارت داخلہ نے ہلاک ہونے والے مشتبہ دہشت گرد کا نام سلمان الفرج بتاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کو دہشت گردانہ حملوں کے شبے میں مطلوب تھا۔

شیخ جیرانی کو دسمبر سن 2016 میں اُن کے گھر کے سامنے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس واردات کے بعد حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ اغوا کے شبے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت کے قریب خیال کیے جانے والے جج الجیرانی پر اغوا سے قبل بھی کئی بار حملوں کی کوشش کی گئی تھی۔

آج بروز پیر ایک پریس کانفرنس میں سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے شیخ جیرانی کے قاتلوں اور اغوا کاروں پر ایک منظم دہشت گرد گروہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ایران سے منسوب قرار دیا۔

خیال رہے کہ شیخ جیرانی شیعہ اقلیت کی جانب سے ملک میں جاری مظاہروں کی مہم کے نقاد تھے اور ملکی شیعہ علما پر پڑوسی ملک ایران سے بہت زیادہ قربت رکھنے کا الزام عائد کرتے تھے۔

سن 2011 میں اُن کے گھر اور گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی اور اُن کے اہل خانہ بمشکل اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہو سکے تھے۔ سن 2012 میں دوبارہ مسلح افراد نے اُن کے گھر پر ‌حملہ کیا تھا لیکن وہ شیخ‌ جیرانی کو پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

سعودی عرب میں شیعہ اقلیت کُل آبادی کا دس سے پندرہ فیصد ہے۔ بد امنی کی ایک حالیہ لہر اُس وقت شروع ہوئی تھی جب رواں برس گرمیوں میں عوامیہ کے علاقے کا سعودی فورسز نے محاصرہ کیا تھا جہاں شیعہ مظاہرین کی جانب سے پولیس کے ساتھ جھڑپیں پرتشدد رنگ اختیار کر گئیں تھیں۔

DW.COM