1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب حقوقِ انسانی کونسل کے کٹہرے میں

حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جرمنی، روس اور چین کے بعد سعودی عرب کو بھی اپنے ہاں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے ہاں کڑے سوالات کا سامنا رہا۔ جنیوا سے کلاؤڈیا وِٹے کی رپورٹ

default

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا نشان اس کے ہمراہ سیاہ برقعے میں ملبوس ایک خاتون

یُو پی آر یا یونیورسل پیریاڈک ریویو اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کا وہ پروگرام ہے، جس کے تحت کسی ملک کو ہر چار سال بعد اپنے ہاں انسانی حقوق کی صورتِ حال سے متعلق جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتِ حال ابتر ہے۔ وہاں خواتین دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہیں۔ خیال کیا جانا چاہیے کہ وہاں کے حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران کوئی نرمی نہیں برتتے ہوں گے اور یہ حقیقت بھی جانی مانی ہے کہ وہاں کم سِن بھی سزائے موت سے نہیں بچ پاتے۔

اِس کے باوجود اب تک انسانی حقوق کی جانچ پڑتال کے جتنے بھی طریقے اپنائے گئے، سعودی عرب اُن کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ اور تو اور اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت نے اِس ملک کو حقوقِ انسانی کونسل کا رکن بھی منتخب کر لیا۔

جنیوا میں سعودی عرب کو اپنے ہاں انسانی حقوق کی جانچ کے حوالے سے جس سماعت کا سامنا کرنا پڑا، اُسے جرمنی میں انسانی حقوق سے متعلق انجمنوں کی مرکزی تنظیم ہیومین رائٹس فورم کے نمائندے تھیوڈور راتھ گیبر نے بھی قریب سے دیکھا۔ وہ بتاتے ہیں: ’’دیکھا جائے تو سعودی عرب کو یہاں موجود ہونے کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی یہ طے کر چکی ہے کہ حقوقِ انسانی کونسل کی رکنیت اُنہی ممالک کو ملنی چاہیے، جو انسانی حقوق کے بلند ترین معیارات کو اپنے ہاں رائج کرتے ہوں۔ میرے خیال میں یہ ناقابلِ قبول ہے کہ کوئی ملک واضح الفاظ میں یہ کہے کہ انسانی حقوق کے آفاقی معیارات اُس وقت ختم ہو جاتے ہیں، جب ملک کے اندر امن کو خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ اور سعودی عرب میں امن کو خطرہ کب ہوتا ہے؟ اُس وقت، جب کوئی بات شریعت کے خلاف جاتی ہے، جب بات شریعت میں سے خواتین کے لئے برآمد کئے جانے والے کم تر حقوق کی ہوتی ہے۔‘‘

سعودی عرب کے نمائندوں نے اِس بارے میں کوئی شک و شبہ نہ رہنے دیا کہ اُن کے ملک میں انسانی حقوق کو اسلام کے قوانین کے تابع رہنا ہو گا۔ چنانچہ سعودی حقوقِ انسانی کمیشن کے نائب صدر ڈاکٹر زَید الحسین نے کہا کہ چونکہ حکومت قرآن میں دئے گئے ضوابط پر سختی سے کاربند رہتی ہے، اِس لئے سعودی عرب میں انسانی حقوق بنیادی طور پر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہیں، ہاں انفرادی طور پر کچھ اِکا دُکا واقعات ہو جاتے ہیں۔

جنیوا میں ایک بھی سعودی نمائندہ ایسا نہیں تھا، جس نے اِس سرکاری موقف کو رَد کیا ہو۔ چونکہ سعودی عرب سے حقوقِ انسانی کے لئے سرگرم کوئی ایک بھی غیر سرکاری تنظیم جنیوا میں موجود نہیں تھی، اِس لئے مسائل کی نشاندہی کی ذمہ داری بین الاقوامی تنظیموں کو نبھانا پڑی۔

دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں موت کی اتنی زیادہ سزاؤں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، جتنا کہ سعودی عرب میں۔ اِسی طرح کم ہی کوئی اور ملک ایسا ہو گا، جہاں خواتین کے حقوق اِس قدر پامال کئے جاتے ہوں۔ خواتین پر تشدد کا مسئلہ بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ حقوقِ انسانی کے ہائی کمیشن نے من مانی گرفتاریوں، قیدیوں پر جبر و تشدد اور عدالتی فیصلے کے بغر لوگوں کو حراست میں رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ملک میں موجود تقریباً سات ملین غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور بدسلوکی کے حوالے سے بھی سعودی عرب کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ دوسری جانب طبی سہولتوں کی کامیاب فراہمی اور انسانی اسمگلنگ کو روکنے کی سرگرم کوششوں کے باعث سعودی حکومت کو سراہا بھی گیا۔

کسی بھی ملک کی طرف سے فراہم کردہ حقوقِ انسانی رپورٹ کی جانچ کے لئے تین ممالک کا انتخاب قرعہ اندازی سے کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی رپورٹ کی جانچ کے لئے قرعہ اندازی میں جن ملکوں کے نام آئے، اُن میں جرمنی بھی شامل تھا۔ چنانچہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے ہاں جرمن مشن کے نمائندے مشاعیل کلیپش اِس کارروائی پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔

کلیپش نے کہا:’’بہت زیادہ ملکوں نے اپنی اپنی رائے دی۔ خاص طور پر سعودی عرب کے آس پاس واقع اسلامی ممالک کی طرف سے بڑے دوستانہ تبصرے اور تجاویز دی گئیں۔ تنقیدی سوالات زیادہ تر مغربی ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے لیکن اِس جانچ کی روایات کے عین مطابق بڑے ہی مہذبانہ طریقے سے۔ یہاں مذمت نہیں کی جاتی بلکہ تجاویز دی جاتی ہیں، اِس اُمید میں کہ متعلقہ ملک اِن میں سے کوئی نہ کوئی تجویز قبول کر لے گا۔‘‘

حقوقِ انسانی کونسل اِس جانچ کو ایک تعمیری مکالمت کے طور پر لیتی ہے۔ جانچ کا یہ سلسلہ دو ہزار چھ میں شروع کیا گیا تھا اور اب تک پچپن ممالک اِس عمل سے گذر چکے ہیں۔