1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب جانے والے پاکستانی ملازمین کی تعداد میں زبردست کمی

سعودی عرب میں دن بدن بڑھتی ہوئی مشکلات کی وجہ سے رواں برس روز گار کی تلاش میں وہاں جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ اس پیش رفت سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق سن دو ہزار سترہ میں ملازمت کے لیے سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کی تعداد سن دو ہزار سولہ کے مقابلے میں صرف سترہ فیصد تھی۔ رواں برس جنوری سے جون تک ملازمت کے لیے صرف ستتر ہزار چھ سو افراد سعودی عرب گئے جب کہ دو ہزار سولہ میں یہ تعداد چار لاکھ باسٹھ ہزار سے بھی زائد تھی۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں سعودی عرب کی مختلف ممالک میں مداخلت کی وجہ سے اس قدامت پرست ملک کے مالی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گرتی ہوئی تیل کی قیمت نے بھی اس کی مالی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب چھوڑ کر آنے والے کئی افراد نے ماہرین کی اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے فرخ شیخ نے ان مالی مسائل کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یمن کی جنگ نے سعودی عرب کو معاشی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔ اس کی معیشت تیل کی قیمتوں کے گرنے کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی لیکن یمن سمیت خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نے سعودی عرب کے اخراجات بہت بڑھا دیے ہیں اور اب وہ کئی طرح کے ٹیکسز لگا کر ان اخراجات کو پورا کر رہے ہیں۔ مجھ سمیت میرے گھر کے پانچ افراد سعودی عرب میں تین سال سے مقیم تھے۔ میں ریاض میں ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ اب جو انہوں نے نئے ٹیکسز لگائے ہیں اس کی مد میں مجھے سالانہ اچھے خاصے پیسے دینے پڑتے۔ اس وجہ سے میں اپنی نوکری چھوڑ کر واپس آگیا ہوں۔‘‘

سینکڑوں پاکستانی مزدور سعودی عرب سے خالی ہاتھ واپس
ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف نوکری پیشہ پاکستانی واپس آرہے ہیں بلکہ چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کی بھی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے،’’پہلے پاکستانی چھوٹے موٹے جنرل اسٹورز کھول لیا کرتے تھے۔ اب ایسے سارے اسٹوروں کو بڑے اسٹوروں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ نئے اسٹور کھو لنے کے لئے پاکستانیوں کو مقامی افراد پر انحصار کرنا پڑے گا۔ وہاں کی حکومت نے بینکوں، موبائل کمپنیوں اور کئی شعبوں میں پہلے ہی سو فیصد سعودی افراد کو بھر دیا ہے۔ اب دوسرے شعبوں میں بھی مقامی افراد کو بھرتی کیا جا رہا، جس کی وجہ سے پاکستانی، جن کی ایک بڑی تعداد وہاں ہے، آہستہ آہستہ واپس آرہے ہیں۔‘‘


کراچی سے ہی تعلق رکھنے والے محمد آصف نے پانچ برس سعودی عرب میں کام کیا اور اب وہ نئے سرے سے نوکری تلاش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے محنت کشوں کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں نے ریاض اور دمام میں دو مختلف کمپنیوں میں کام کیا۔ لیکن اب وہاں پر پاکستانی کارکنان اور دوسرے محنت کشوں کے لئے مشکلات بہت بڑھتی جا رہی ہے۔ آپ صبح سے شام تک سخت محنت کریں اور مہینے کے آخر میں آپ کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اس لئے میں واپس آگیا ہوں اور اب چھ مہینے بے روزگار رہنے کے بعد ابھی ابھی برسرِ روزگار ہوا ہوں اور وہ بھی اس تنخواہ پر جو میں پاکستان میں پانچ برس پہلے لے رہا تھا۔‘‘
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سعودی عرب میں محنت کشوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ انہیں مغربی ممالک کی طرح سہولیات دی جاتی ہیں،’’مغربی ممالک میں آپ پانچ برس رہے لیں تو آپ کو شہریت بھی مل جاتی ہے اور گھر والوں کو سہولیات بھی۔ لیکن ہمارے اپنے برادر ممالک میں آپ پچیس برس بھی رہے لیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سردار حفیظ نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سات برس کام کرنے کے بعد بڑھتی ہوئی مشکلات کے پیش نظر میں واپس آگیا ہوں۔ اب یہاں کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کا سوچ رہا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کام کرنا آسان نہیں۔ لوڈ شیڈنگ سے لے کر پانی تک کے مسائل ہیں۔ غریب آدمی جائے تو جائے کہاں؟‘‘
معروف معیشت دان ثاقب شیرانی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان کا تجارتی خسارہ تیس ارب ڈالرز کے قریب جبکہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ بارہ ارب ڈالر ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے ممالک سے ہمیں بہت زر مبادلہ آتا ہے، جوتقریبا کل زر مبادلہ کا ساٹھ سے ستر فیصد بنتا ہے۔ یہ ہماری برآمدات کے برابر ہے۔ اب اس معاشی منظر نامے میں اگر ہمارے لوگ سعودی عرب سے بڑی تعداد میں واپس آتے ہیں تو اس سے ہمارے زر مبادلہ کو دھچکا لگے گا، جس سے معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔‘‘

DW.COM