1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب: اہم شیعہ رہنما سمیت سینتالیس افراد کو سزائے موت

سعودی عرب میں اہم شیعہ مذہبی رہنما نمر النمر سمیت سینتالیس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی چینل پر سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق وزارت داخلہ کے بیان میں ان افراد کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

نمر النمر کی موت کی سزا کو مؤخر کرنے سے متعلق مسلسل اپیلیں اور مطالبات سامنے آتے رہے تھے۔ سن 2011ء میں عرب اسپرنگ کے موقع پر سعودی عرب میں بسنے والی شیعہ اقلیت نے بھی حکومت مخالف مظاہرے کیے تھے، تاہم سعودی حکومت نے انہیں طاقت کا استعمال کر کے کچل دیا تھا۔ نمرالنمر ان مظاہروں میں پیش پیش تھے۔

قدامت پسند سلطنت سعودی عرب میں عموماﹰ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد ان کے سر قلم کر کے کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں سن 2003 تا 2006 دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس عرصے میں دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب میں سینکڑوں افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

تاہم سعودی عرب میں سن 2011 تا 2013ء شیعہ اقلیت بھی حکومت مخالف مظاہروں میں شامل رہی، جب کہ اس دوران متعدد جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے اور پٹرول بموں سے حملوں کے متعدد واقعات بھی دیکھے گئے تھے۔ ان واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی شیعہ افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

Vater von Ali al-Nimr Todesurteil Saudi Arabien Riad

النمر کو سن 2012ء میں حراست میں لیا گیا تھا

اس سے قبل خطے میں سعودی عرب کے سب سے اہم حریف ملک ایران نے خبردار کیا تھا کہ نمر کی موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل پر سزائے موت کی ان اطلاعات کے ساتھ ساتھ دہشت گردانہ حملوں کی تباہ کاریوں اور مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ کا ایک پیغام بھی نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے قرآنی آیات کے ذریعے ان افراد کو دی جانے والی سزائے موت کا دفاع کیا۔

نئے برس میں سعودی عرب میں قیدیوں کو سزائے موت دیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس بھی سعودی عرب میں 157 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ سن 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس سزائے موت پر عمل درآمد میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ سن 2014ء میں 90 افراد کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیمیں سعودی عرب میں سزائے موت دیے جانے پر مسلسل تنقید کرتی آئی ہیں۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات کی شفاف طریقے سے کارروائی نہیں کی جاتی اور سعودی عدالتی نظام میں موجود نقائص ملزمان کو اپنے دفاع کا مکمل حق بھی نہیں دیتے۔