1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب اور پاکستان کے عسکری تعاون کا مستقبل کیا ہوگا؟

نئے آرمی چیف ان دنوں سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ پاکستانی حکام اس دورے کو معمول کا حصہ قرار دے رہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب کے عسکری تعاون میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقاتیں کیں ہیں۔ اتوار کو سعودی وزیرِ دفاع محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے مقاماتِ مقدسہ اور سعودی عرب کی جغرائیائی وحدت کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اس دورے کا وقت بہت اہم ہے۔ پورے خطے میں ہمیں ایران مضبوط ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ عراقی حکومت ایران کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ خطے میں حزب اللہ ایران کا وفادار اتحادی ہے جب کہ شام میں بشارالاسد اور یمن میں حوثیوں کی پوزیشنیں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔ اس صورتِ حال سے سعودی عرب پریشان ہے اور ریاض کو محسوس ہو رہا ہے کہ سعودی مخالف عناصر اس کو گھیر رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستان ہی قدامت پرست بادشاہت کی مدد کر سکتا ہے۔ شریف فیملی کے سعودی گھرانے سے ذاتی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب ہمارے لئے زرِ مبادلہ کا ایک بڑٖا ذریعہ ہے اور کئی مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں بھی اس عرب ریاست کے ساتھ ہیں، تو اس بات کا قومی امکان ہے کہ اگر حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کو وہاں فوج بھیجنی پڑے گی۔‘‘

Saudi-Arabien Marine-Übungen (
Getty Images/AFP/F. Nureldine)

پاکستان سعودی عرب کے 34 ملکی اتحاد کا بھی حصہ ہے


دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ویسے تو ہر نیا آرمی چیف دوست ممالک کا دورہ کرتا ہے، جس میں سعودی عرب سر فہرست ہے لیکن موجودہ صورتِ حال میں اس دورے کا یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کا مطالعہ کیا جائے اور حکومت کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ پھر حکومت اور پارلیمنٹ اس کا فیصلہ کریں گے۔ تاہم سعودی عرب فوج بھیجنا آسان نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ میں کئی اراکین ایسے ہیں جن کا ایران کے لئے نرم گوشہ ہے۔ یہاں تک کہ پی پی پی بھی کسی ایسے فیصلے کو منظور نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، تو حکومت کے لئے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ فوج بھیجے۔‘‘
سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اور صحافی مطیع اللہ جان نے فوج بھیجنے کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’آپ کو کس نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ سے اجازت لے کر فوج بھیجے گی۔ میرے خیال میں ہمارے کچھ فوجی وہاں پہلے ہی موجود ہیں اور مزید بھیجنے ہوں گے تو ہم کسی اور بہانے بھیج سکتے ہیں۔ تربیت دینے کے نام پر بھی تو فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور عرب دنیا خصوصا سعودی عرب کے تعلقات میں آپ کو کئی دلچسپ پہلو ملیں گے۔ مثلا ہمیں اچانک پتہ چلتا ہے کہ مشرف کو پانچ ارب سعودی عرب نے دیے تھے۔ میاں صاحب کے لئے بھی کوئی عرب شہزادہ خط لے کر آجاتا ہے۔ ہمیں سعودی حکومت ڈیڑھ بلین ڈالر تحفے میں دیے دیتی ہے۔ اس ملک میں سعودی عرب کا اثر و رسوخ اتنا ہے کہ ان کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘


تحفظِ حرمین شریفین کونسل کے میڈیا کوآرڈینیٹر اونیب فاروقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حالات جس طرف جارہے ہیں اس سے یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ شام و یمن میں سعودی مخالف قوتیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ ایران کی خطے میں مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔ اب ایران کی نظر بحرین پر ہے۔ ایسی صورتِ حال میں سعودی عرب کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان 34 ملکی اتحاد کا حصہ ہے اور جو فیصلہ بھی یہ اتحاد کرے گا پاکستان کو وہ ماننا پڑے گا۔ پاکستان نے اسی کی دہائی میں بھی سعودی عرب کی مدد کی تھی، جب وہاں ایک ملک کی طرف سے عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی اور پاکستان اب بھی سعودی عرب کی مدد کر ے گا۔‘‘
نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ادارہ برائے بین الاقوامی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ بات صحیح ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست ہے لیکن پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں کہ وہ کسی ایسی جنگ میں کودے جس سے اس کے مسائل مزید بڑھیں۔ ہمیں پہلے ہی ملک کے اندر بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یمن کی جنگ میں کودنے کا مطلب پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ کو ہوا دینے کے مترادف ہوگا اور پاکستان کی پارلیمنٹ کبھی اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ میرے خیال میں سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی ایسے شدید خطرات بھی لاحق نہیں ہیں۔ ایرانی حکومت بڑی دانش مندی سے خطے میں اپنی پالیسی چلا رہی ہے۔ وہ ریاض سے کشیدگی کو ایک حد تک ہی لے کر جائے گی لیکن جنگ جیسی صورتِ حال پیدا ہونے نہیں دے گی۔‘‘