1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب اور جرمنی سمیت متعدد ممالک میں عید الفطر

سعودی عرب، جرمنی اور متعدد عرب اور مغربی ممالک میں اتوار کے روز عید الطفر منائی جا رہی ہے۔ پاکستان میں متوقع طور پر پیر کے دن اس مذہبی تہوار کو منایا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ کم ازکم چودہ عرب ممالک میں پچیس جون بروز اتوار عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کئی مغربی ممالک میں بھی مسلم کمیونٹی اس تہوار کو روایتی مذہبی جوش و خروش سے خوشیاں منا رہی ہے۔ سعودی عرب میں ہفتے کے دن اعلان کیا گیا تھا کہ عید الطفر اتوار کے دن ہو گی۔

عیدالفطر منائے جانے کے اعلانات مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، فلسطین، شام، سوڈن اور یمن میں بھی کیے گئے تھے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی اتوار کے دن ہی عید منائی جا رہی ہے۔ تاہم عمان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا تھا، اس لیے وہاں عید پیر کے دن ہو گی۔

جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک کے علاوہ جاپان، شمالی کوریا اور امریکا بھی عید پچیس جون بروز اتوار کو ہی منائی جا رہی ہے۔ جس طرح پاکستان میں عیدالفطر کو میٹھی عید کہا جاتا ہے، اسی طرح جرمنی میں اس عید کو سُکر فیسٹ (Zuckerfest) کہا جاتا ہے۔ جرمن زبان میں سُکر کا معنی میٹھا ہے اور فیسٹ تہوار کو کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں حکومت کی قائم کردہ رویت ہلال کمیٹی اپنے آج بروز اتوار منعقد کیے جانے والے ایک اجلاس میں پہلی شوال یا عیدالفطر کے منانے کے حوالے سے اعلان کرے گی۔ پاکستان کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی متوقع طور پر پیر کے دن ہی عید منائی جائے گی۔ پاکستان میں عمومی طور پر سعودی عرب کے ایک دن بعد عید منائی جاتی ہے۔

تاہم اس مرتبہ پاکستان میں رمضان کے اواخر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں اور بہاولپور میں آئل ٹینکر کے حادثے کے نتیجے میں عید کی خوشیاں پھیکی پڑ گئی ہیں۔ بہاولپور میں اتوار کے دن ہوئے اس حادثے کے باعث کم ازکم 123 افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پارہ چنار میں ہوئے حملے میں بھی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو چکی ہے۔

’جمعتہ الوادع‘ کے دن اس شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے میں ہوئے حملے کی ذمہ داری سنی انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کر لی ہے۔ جمعے کے دن ہی کوئٹہ میں بھی ایک حملہ کیا گیا تھا، جس میں چودہ افراد لقمہ اجل بنے۔ حکومت پاکستان نے عید کے موقع پر سکیورٹی بڑھا دی ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

DW.COM