1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرے، امریکی قانون سازوں کی کوششیں

امریکی کانگریس کے دو سو سے زائد اراکین نے سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ سعودی عرب نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

default

سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ

US-Präsident Obama mit dem saudischen König Abdullah

ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے امریکی صدر اوباما کی قاہرہ میں کی گئی تقریر پر ردِ عمل سامنے نہیں آیا، امریکی قانون ساز


امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے بریڈ شیرمین اور رپبلکن پارٹی کے نمائندے ایڈ روئس کی قیادت میں امریکی کانگریس کے دو سے زائد اراکین نے سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے اس افسوس کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے عوامی ذرائع کا استعمال نہیں کیا۔

امریکی قانون سازوں نے مصر کے سابق صدر انور سادات کی مثال دیتے ہوئے ان کے انیس سو ستتّر کے دورہِ اسرائیل کے ذکر کے علاوہ اردن کے سابق بادشاہ حسین کے اردن اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تعلقات استوار کرنے کی مثالیں پیش کیں جس کے نتیجے میں مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آئے تھے۔ امریکی سینیٹروں نے امید ظاہر کی کہ سعودی فرماں روا مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے اردن اور مصر کی راہ اپنائیں گے۔

Symbolbild Friedensprozess Israel Palästina

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے سعودی عرب کردار ادا کرسکتا ہے


امریکی سینیٹروں نے امریکی صدر باراک اوباما کی جون کے مہینے میں قاہرہ میں کی گئی اس تقریر کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے عرب ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی اپیل کی تھی۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر مایوسی ہوئی کہ سعودی عرب کی جانب سے امریکی صدر کی تقریر پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے کیے گئے مطالبے کو سعودی عرب نے رد کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ سعود الفیصل نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقوں سے کنٹرول ختم کر دے۔

BG60JahreIsrael Mauer in der Westbank

اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن میں کھڑی کی گئی متنازعہ دیوار


سعود الفیصل کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کو کیا پیش کر سکتے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل عرب ممالک کو کیا دینے کے لیے تیّار ہے۔

واضح رہے کہ سن دو ہزار دو میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک تجویز پیش کی گئی تھی جس کے مطابق اسرائیل کے1967 کی جنگ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے دست بردار ہونے کی صورت میں عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات بحال کرنے کے لیے راضی تھے۔ اس تجویز کی منظوری عرب لیگ نے بھی دی تھی جس کی رو سے ویسٹ بینک اور غرّہ پٹّی، آزاد فلسطینی ریاست میں شامل ہونا تھے اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا تھا۔

سعودی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ تک کے مطالبے کو ماننے کے لیے تیّار نہیں ہے جس میں امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیل سے غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے روکنے کی اپیل کی ہے۔

DW.COM