1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب، اتحادیوں کی پابندیوں کا جواب: قطر کی نئی بندرگاہ

خلیجی ریاست قطر نے کہا ہے کہ اس کے خلاف سعودی عرب اور اس کی اتحادی ریاستوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے تناظر میں اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی ایک نئی قطری بندرگاہ ان ’اقتصادی زنجیروں‘ کو توڑنے میں مدد دے گی۔

default

قطری دارالحکومت دوحہ کی طلوع آفتاب کے وقت لی گئی ایک تصویر

دوحہ سے منگل پانچ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق قطر کے وزیر ٹرانسپورٹ جاسم بن سیف السلیطی نے کہا ہے کہ خلیج کی تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال اس ریاست کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں متعدد عرب ممالک نے جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، انہیں اب ٹھیک تین ماہ ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب یمن میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے، ایران

قطر اور ايران کے سفارتی تعلقات کی بحالی

ویڈیو دیکھیے 02:37

قطر کا بحران: کون کس کے ساتھ ہے؟

جاسم بن سیف السلیطی نےکہا کہ ان پابندیوں اور قطر کی اقتصادی، زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی جیسے اقدامات کے اثرات کے تدارک کے لیے وہ نئی قطری بندرگاہ ان ’زنجیروں کو توڑنے‘ میں مدد دے گی، جس کی تعمیر پر 7.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

 قطر کو اپنے خلاف جن طاقتور ہمسایہ عرب ممالک کے اقدامات کا سامنا ہے، ان کے اثرات کے ازالے کے لیے قطر کی وہ حمد پورٹ بہت اہم کردار ادا کرے گی، جس نے گزشتہ برس دسمبر میں ابتدائی طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ 

 

آج منگل پانچ ستمبر کو اسی حمد بندرگاہ کے سرکاری افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا، ’’یہ بندرگاہ وہ راستہ ہے، جس پر چل کر ان زنجیروں کو توڑا جا سکے گا، جو قطر پر مسلط کر دی گئی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی جاسم بن سیف السلیطی نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت قطر کو اس کے ارادوں سے نہیں روک سکتی۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ کسی بھی دوسری خلیجی عرب ریاست کی طرح قطر میں بھی ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ سربراہ مملکت کسی تقریب میں عوامی سطح پر شرکت کرے۔ قطر کے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ اختلافات کے تناظر میں آج لیکن یہ بھی ہوا کہ حمد پورٹ کے باقاعدہ افتتاح کی تقریب میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے بھی شرکت کی تاہم انہوں نے اس تقریب سے خطاب نہ کیا۔

 قطری حاجیوں کی سلامتی کے معاملے پر تشویش ہے، دوحہ

سعودی عرب کی قطر پر یہ مہربانی کیوں؟

مظاہروں کے پیچھے قطر تھا، بحرین کا الزام

اس سال جون کی پانچ تاریخ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر یہ الزامات لگاتے ہوئے اس کے ساتھ اپنے جملہ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے کہ دوحہ حکومت کے خطے کی شیعہ اکثریتی ریاست ایران کے ساتھ بہت قریبی روابط ہیں اور قطر اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کی مالی مدد بھی کر رہا ہے۔

قطر اپنے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے عائد کردہ ان الزامات کی بھرپور تردید کرتا ہے لیکن یہ بحران گزشتہ تین ماہ میں ختم نہیں ہو سکا اور قطر کی مکمل ناکہ بندی تاحال جاری ہے۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ حمد پورٹ کے افتتاح کی اس رنگا رنگ تقریب سے، جو ایک گھنٹے تک جاری رہی، قطر نے خطے میں اپنی ناقد ریاستوں کو یہ واضح اشاردہ دیا ہے کہ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے معطل کیے جانے کے ایک سہ ماہی بعد بھی قطر اس معاملے میں اپنے ہمسایہ عرب ممالک کے سامنے جھکنے پر تیار نہیں  ہے۔

قطر نے اٹلی کو چار جنگی بحری جہازوں کا آرڈر دے دیا

مقدس مقامات کی بین الاقوامی حیثیت کا قطری مطالبہ ’اعلان جنگ‘، سعودی عرب

’قطری رابطوں والے دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی گئی‘

قطر کی یہ بندرگاہ اس ملک کی سب سے بڑی کنٹینر پورٹ ہو گی، جس کے ذریعے سرکاری بیانات کے مطابق اس خلیجی ریاست کو دنیا کے قریب 150 ممالک کے ساتھ تجارتی رسائی حاصل ہو جائے گی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic