1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی شہری دہشت گردوں کے سب سے بڑے ڈونر ہیں، سفارتی کیبلز

امریکہ کو سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ڈونرز کی جانب سے دہشت گردوں کو ملنے والے مالی وسائل پر تشویش رہی ہے۔ خفیہ سفارتی کیبلز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ برس اس پہلو سے خبردار کر دیا تھا۔

default

وکی لیکس کی جانب سے جاری کئے گئے خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کے ڈونر دُنیا بھر میں سُنی دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کو ایسی سرگرمیوں پر ترجیحی بنیادوں پر قابو پانے کے لئے تیار کرنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔

سفارتی کیبلز کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ ان ڈونرز سے رقوم حاصل کرنے والے دہشت گرد گروپوں میں القاعدہ، طالبان اور لشکر طیبہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ حج اور رمضان کے دِنوں میں بالخصوص سعودی ڈونرز سے بھاری رقوم حاصل کرتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے انتہاپسندوں کے خاتمے کے لئے متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ انہوں نے ان ممالک کو بھی دہشت گردوں کے لئے مالی وسائل کا ذریعہ قرار دیا۔

ہلیری کلنٹن کی جانب سے ایسا ہی ایک پیغام گرشتہ برس دسمبر میں بھیجا گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے سفارت کاروں پر زور دیا تھا کہ انتہاپسندوں کو مالی وسائل کی فراہمی کو روکنے کے لئے کوششیں دگنی کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہاپسند پاکستان اور افغانستان کے استحکام کے لئے خطرہ ہیں جبکہ افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

NO FLASH Wikileaks Hillary Rodham Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

اس پیغام میں انہوں نے لکھا تھا، ’سعودی عرب اندرون ملک دہشت گردی کے خطرے کے لئے سنجیدہ ہے، لیکن سعودی حکام اپنے ہاں سے دہشت گردوں کے لئے مالی وسائل کی دستیابی پر قابو پانے کو ترجیح بنائیں، انہیں اس بات پر تیار کرنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔‘

ایسے ہی ایک اور سفارتی پیغام کے مطابق لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی فلاحی تنظیم جماعت الدعوہ نے 2005ء میں اپنی سرگرمیوں کی فنڈنگ کے لئے سعودی عرب میں قائم ایک کمپنی کو استعمال کیا۔ ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے رواں برس فروری میں کہا تھا کہ سعودی حکام اس نوعیت کی معلومات کے حصول کے لئے تقریباً پوری طرح سی آئی اے پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس