1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی شاہ سلمان روس میں کتنے ارب ڈالر کے معاہدے کریں گے؟

شام میں ایک دوسرے کے حریف ہونے اور ایران کے حوالے سے اختلافات کے باجود سعودی شاہ اپنے روس کے تاریخی اور پہلے دورے کے دوران توانائی اور دفاع کے شعبوں میں اربوں ڈالر کے معاہدے کریں گے۔

آج ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوٹن کا سعودی شاہ سلمان کا استقبال کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے تعلقات کی تاریخ میں کسی بھی سعودی شاہ کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس طرح بذات خود یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔‘‘ ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’مجھے یقین ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مضبوط ہوں گے۔‘‘

روسی صدر کی گرم جوشی کا جواب دیتے ہوئے سعودی شاہ کا کہنا تھا، ’’سلامتی اور امن حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ہم اپنے تعلقات میں مضبوطی چاہتے ہیں۔‘‘

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی شاہ نے روسی صدر سے ملاقات کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو  مشرق وسطیٰ میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔

 قبل ازیں فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے روس کے وزیر برائے توانائی الیگزینڈر نوواک کا کہنا تھا کہ اس دورے میں توانائی کے حوالے سے تین ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے کیے جائیں گے: ’’ان میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک ارب ڈالر مالیت کا انرجی انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا اور ایک عشاریہ ایک ارب ڈالر کی مالیت سے روس کی  پیٹرو کیمیکل کمپنی صیبور سعودی عرب میں ایک پلانٹ تعمیر کرے گی۔‘‘

اسلحے کے انبار بڑھنے لگے، سفارت کاری کا دور ختم؟

روسی روزنامہ بزنس ڈیلی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ پوٹن اور شاہ سلمان ہتھیاروں کے ایک معاہدے کے حوالے سے بھی مذاکرات کریں گے۔ ان ہتھیاروں کی مالیت تین ارب ڈالر سے زائد ہوگی۔ رپورٹوں کے مطابق ریاض حکومت روس سے ایس چار سو ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنا چاہتی ہے۔ العربیہ کی رپورٹوں کے مطابق یہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

روس اور سعودی عرب کا بڑی حد تک خام تیل کی برآمدات پر انحصار ہے۔ سن دو ہزار چودہ میں تیل کی قیمتیں گرنے سے دونوں ملکوں کی معیشت متاثر ہوئی۔ اس کے بعد اوپیک ممالک نے روس کے ساتھ مل کر خام تیل کی پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا تھا تاکہ تیل کی قیمتیں بڑھ سکیں۔ اب روسی صدر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ ممکنہ طور پر پیداوار میں کمی سے متعلق اوپیک معاہدے کو سن دو ہزار اٹھارہ کے اواخر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔‘‘ موجودہ معاہدہ مارچ دو ہزار اٹھارہ میں ختم ہو رہا ہے۔

قبل ازیں روسی صدر نے سن دو ہزار سات میں ریاض کا دورہ کیا تھا اور یہ بھی کسی روسی سربراہ حکومت کا سعودی عرب کا پہلا دورہ تھا۔ سن انیس سو چھبیس میں سابق سوویت یونین وہ پہلا ملک تھا، جس نے سعودی عرب کو تسلیم کیا تھا۔ سعودی عرب سرکاری طور پر انیس سو بتیس میں قائم ہوا تھا۔

DW.COM