1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی شاہ سلمان، روس جائیں گے

سعودی عرب کے شاہ سلمان جمعرات کے روز سے اپنا روس کا دورہ شروع کریں گے۔ خیال رہے کہ روس اور سعودی عرب شام کے تنازعے میں دو مخالف فریقین کی حمایت کرتے آ رہے ہیں۔

سعودی شاہ سلمان کے دورہ روس کے بارے میں اطلاع سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے دی ہے۔ پریس ایجنسی کے مطابق سعودی بادشاہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی دعوت پر روس کا یہ دورہ کر رہے ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران پوٹن سے مذاکرات بھی کریں گے۔

سعودی سرکاری پریس ایجنسی SPA کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس دورے کے دوران سعودی شاہ سلمان اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن ’’باہمی تعلقات اور علاقائی کے علاوہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سےدلچسپی کے امور پر بات چیت کریں گے۔‘‘ 2015ء میں سعودی بادشاہ بننے والے شاہ سلمان کا روس کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے گزشتہ ماہ سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ دراصل خلیجی ممالک کے ان کے دورے کا حصہ تھا۔ اس دورے میں انہوں نے قطر اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک کے درمیان جاری تنازعے کے حل کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔

شام میں 2011ء کے آغاز میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد وہاں ملک بھر میں پھیل جانے والی خانہ جنگی کے تناظر میں ماسکو حکومت شروع سے ہی اپنے حلیف شامی صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ ریاض حکومت شامی حکومت کے ان باغیوں کی حمایت میں مصروف ہے جو صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

Russland Präsident Wladimir Putin (picture-alliance/Sputnik/S. Guneev)

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی بادشاہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی دعوت پر روس کا یہ دورہ کر رہے ہیں

سعودی عرب نے رواں برس اگست میں سامنے آنے والی اُن رپورٹوں کی تردید کی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ ریاض حکومت شامی اپوزیشن کی ’’ہائی نیگوسی ایشن کمیٹی‘‘ کے لیے اپنی حمایت تبدیل کر رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے اس وقت کہا گیا تھا کہ سعودی عرب’’ شام کے ایک ایسے مستقبل کی حمایت کرتا ہے جس میں بشار الاسد کی کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔