1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سعودی سپر مارکیٹوں سے خواتین کیشیئرز کی برطرفی

سعودی عرب میں خواتین صرف تعلیم، بینکاری اور طب کے شعبوں میں ہی کام کرسکتی ہیں اور وہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اب سعودی عرب میں سپر مارکیٹوں میں خواتین کے کیشیئر ہونے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

default

شاہ عبداللہ کا حکم :سعودی عرب میں فتویٰ صرف سرکاری طور پر منتخب علماء ہی دے سکیں گے

ابھی حال ہی میں سعودی شہزادہ ولید بن طلال کی جدہ میں واقع پانڈا گروپ نامی ایک کمپنی نے، جو کئی سپر مارکیٹوں کی مالک ہے، گیارہ خواتین کو ملازمتوں پر رکھا تو انہیں شاہی خاندان کا رکن ہونے کے باوجود ملک میں قدامت پسند مذہبی رہنماؤں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

Wahlen in Jordanien

سعودی عرب میں خواتین صرف تعلیم، بینکاری اور طب کے شعبوں میں ہی کام کرسکتی ہیں

اس کمپنی کی خلیجی ریاستوں میں کل سو سے زائد سپر مارکیٹیں قائم ہیں۔ پانڈا گروپ کی دبئی میں قائم سپر مارکیٹوں میں تو کافی زیادہ خواتین کام کرتی ہیں مگر سعودی عرب میں اسی گروپ کے تجارتی مراکز میں خواتین کام نہیں کر سکتیں۔ وجہ یہ کہ قدامت پسند سعودی رہنماؤں نے کافی عرصے سے مردوں اور خواتین کے ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر کام کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسی لئے اس ملک میں سبھی دکانوں اور بڑی مارکیٹوں میں ہر جگہ صرف مرد ملازمین ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

پانڈا گروپ نے ان گیارہ خواتین کو صرف ان چیک آؤٹ کاؤنٹرز پر تعینات کیا تھا، جہاں گاہکوں کے طور پر صرف خواتین اور بچے ہی آتے ہیں۔

یوسف الاحمد نامی ایک مذہبی شخصیت نے ایک سیٹیلائٹ ٹیلی وژن چینل پر آ کر پانڈا گروپ کے اس اقدام پر اس کمپنی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ نظریاتی بنیادوں پر یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا، جب تک کہ یہ کمپنی ان گیارہ خواتین کو ملازمتوں سے برطرف نہیں کر دیتی۔

Deutschland Euro Verbraucher Preise Einkaufswagen

سعودی سپر مارکیٹوں سے مزہبی دباؤ کی وجہ سے خواتین کیشیئرز کی برطرفی

اس پر پانڈا گروپ نے مذہب کی بنیاد پر سماجی دباؤ میں آ کر ان خواتین کو ان کی ملازمتوں سے برخاست کر دیا۔ لیکن اتنا ضرور ہوا کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی طرف سے یوسف الاحمد پر شدید تنقید کی گئی اور شاہ عبداللہ نے کہا کہ اس مذہبی عالم کو ملکی مجلس شوریٰ سے مشورہ کئے بغیر کوئی فتوہ نہیں دینا چاہئے تھا۔

اسی پس منظر میں رواں مہینے کے پہلے نصف حصے میں شاہ عبداللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ سعودی عرب میں آئندہ کوئی بھی فتویٰ صرف سرکاری طور پر منتخب علماء ہی دے سکیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت ایک نیا ٹیلی وژن ادارہ اور ایک ریڈیو اسٹیشن کھولنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے، جن کے ذریعے یہ سرکاری طور پر ’منظور شدہ‘ اور ’منتخب‘ علماء اپنے فتوے عوام تک پہنچا سکیں گے۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس