1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی سرحد پر کئی مقامات پر قبضہ کر لیا ہے، حوثی باغی

یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب سے ملحقہ یمنی سرحد پر کئی فوجی پوزیشنوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمن میں سعودی عسکری اتحاد حوثی ملیشیا اور دیگر باغیوں کے خلاف زمینی و فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے صوبے نجران سے ملحقہ یمنی سرحد پر کئی فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ باغیوں نے ان سرحدی چوکیوں پر قبضے اپنے ایک فوجی آپریشن کے دوران کیے۔ اس فوجی آپریشن کو حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا (SABA) نے رپورٹ کیا ہے۔

یمنی جنگ میں سعودی اتحاد کے لیے خفیہ امریکی مشاورت میں کمی

یمن میں فائر بندی اور مذاکرات شروع

یمنی تنازعہ، قطر نے ایک ہزار فوجی روانہ کر دیے

سبا نیوز ایجنسی نے چوکیوں پر قبضے کو بغیر کسی فوجی حوالے کے رپورٹ کیا ہے۔ اس کے مطابق حوثی باغیوں کی عسکری مہم کے دوران جہاں کئی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے، وہاں ایک بڑی تعداد میں سعودی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی بھی کیا گیا۔ اس نیوز ایجنسی نے اپنی تازہ عسکری مہم کی مزید تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ حوثی ملیشیا کے دعوے پر ریاض حکومت نے بھی کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عسکری اتحاد ان ایران نواز باغیوں کی سرکوبی کے لیے اپنی عسکری کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اقتدار کے حصول کی کشمکش نے عرب دنیا کے غریب ملک یمن کو تقریباً تاراج کر دیا ہے۔ دارالحکومت صنعاء پر حوثی باغی بدستور کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔

Saudi-Arabien F-15 Kampfflugzeuge (Getty Images/AFP/F. Nureldine)

سعودی عسکری اتحاد کف جانب سے یمن پر حملے مارچ سن 2015 میں شروع کیے گسے

یمن میں اقتدار حاصل کرنے کا تنازعہ سن 2014 سے شروع ہے اور مارچ سن 2015 میں سعودی عسکری اتحاد نے پہلے فضائی حملے شروع کیے اور بعد میں زمینی راستے سے فوجیں داخل کر دیں اور یہ کئی مقامات پر عسکری حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی حمایت سے یمن کے صدر منصور ہادی آج کل بحیرہ احمر کے کنارے پر واقع جنوبی شہر عدن کو اپنا پاور ہاؤس بنا رکھا ہے۔ حوثی ملیشیا کے ساتھ سابق صدر عبداللہ صالح کے حامی فوجی دستے بھی منصور ہادی کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔ یمن کے  کئی صوبوں میں القاعدہ کی مقامی شاخ AQAP بھی سرگرم ہے۔ اس کے جہادیوں کو امریکی ڈرون حملوں کا وقفے وقفے سے سامنا رہتا ہے۔

DW.COM