1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

سعودی خواتین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

سوشل میڈیا پر سعودی خواتین کی ایک ایسی ویڈیو بہت زیادہ مقبول ہو گئی ہے جس میں سعودی معاشرے میں خواتین  کی حق تلفی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں خواتین ’غیر منصفانہ‘ قوانین کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اب تک پچیس لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین نے رنگ برنگ ملبوسات پہنے ہوئے ہیں۔ لیکن تمام خواتین نے برقعہ اوڑھا ہوا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کو برقعے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

ویڈیو میں یہ خواتین رقص کر رہی ہیں، باسکٹ بال کھیل رہی ہیں اور سکیٹنگ بھی کر رہی ہیں۔ 

ویڈیو کا آغاز سعودی عرب میں ’محرم‘ کے قانون پر تنقید سے ہوتا ہے۔ اس اسلامی ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ خواتین گاڑی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھی ہیں اور ایک چھوٹا بچہ گاڑی چلا رہا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانا ممنوع ہے۔ ویڈیو میں خواتین یہ بھی گنگنا رہی ہیں،’’ مرد ہمیں ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔‘‘

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس میوزک ویڈیو کو سعودی عرب میں کچھ حلقوں کی جانب سے پسند کیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو کو جاری کیے جانے کے بعد سعودی شہزادے ولید بن طلال کی سابق اہلیہ نے اس ویڈیو کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر بھی کیا۔ اور ایک سعودی اخبار ال نیلاد نے بھی اس ویڈیو کی تعریف کرتے ہوئے اخبار میں لکھا’’خواتین کی نئی نسل ماضی سے مختلف ہے۔‘‘

یہ ویڈیو عرب ممالک میں بھی کافی مقبول ہو گئی ہے اور اس نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا،‘‘ یہ ایک مزاحیہ ویڈیو ہے لیکن یہ انتہائی سنجیدہ معاملے پر بنائے گئی ہے۔‘‘

سوشل میڈیا کی ایک صارف نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ سعودی عرب میں قوانین اتنے سخت ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ویڈیو میں بھی برقعوں کے نیچے مرد ہیں۔‘‘

 کئی صارفین اس ویڈیو کے مخالف بھی نظر آئے۔ ایک شخص نے یوٹیوب پر لکھا،’’ ناقابل یقن مواد یہ شرم کا مقام ہے کہ خواتین ایسا ڈانس کر رہی ہیں۔‘‘