سعودی حکومت کے خلاف احتجاج پر مزید گیارہ شہزادے گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 06.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی حکومت کے خلاف احتجاج پر مزید گیارہ شہزادے گرفتار

سعودی حکام نے مبینہ طور پر گیارہ سعودی شہزادوں کے ایک گروپ کو گرفتار کر لیا ہے جو اپنے یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی معطل کیے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان افراد کو انتہائی سکیورٹی کی جیل میں رکھا گیا ہے۔

سعودی میڈیا نے آج ہفتے کے روز ایسی خبریں شائع کی ہیں کہ یہ گیارہ شہزادے تاریخی اہمیت کے حامل ’ قصر الحُکم‘ میں جمع ہو کر اپنے ایک رشتہ دار کو دی گئی سزائے موت کا معاوضہ طلب کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں ان شہزادوں نے اُس حالیہ شاہی فرمان کی بھی مذمت کی جس کی رُو سے شاہی افراد کو پانی اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مد میں دی جانے والی رقوم میں کٹوتی کی گئی ہے۔

سعودی عرب کا شاہی خاندان کثیرالازواجی کی بدولت ہزاروں ارکان پر مشتمل ہے۔ بعض مشاہدین کا کہنا ہے کہ اس شاہی ریاست میں شہزادوں اور شہزادیوں کی تعداد پندرہ سو کے لگ بھگ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے چلائی جانب والی نئی اقتصادی مہم کے نتیجے میں شاہی خاندان میں تقسیم واضح نظر آئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

حکومت سے منسلک ’سباق‘ نامی ویب سائٹ نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہزادوں کو اُن کے مطالبات کے حوالے سے اُن کی غلطی سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے قصر الحکم چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

'سباق‘ ویب سائٹ کے مطابق،’’ تب شاہی گارڈز کو ان شہزادوں کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا اور انہیں گرفتار کر کے الہیر جیل میں ڈال دیا گیا ہے تاکہ اُن پر مقدمہ چلانے کی تیاری کی جا سکے۔‘‘

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں سعودی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کرتے ہوئے گیارہ شہزادوں سمیت درجنوں موجودہ اور سابق وزرائے مملکت اور سرکاری افسران کو گرفتار کر لیا تھا۔ بعد ازاں دسمبر سن 2017 میں سعودی حکومت کے اعلی ترین پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ گرفتار شدہ شہزادوں میں سے متعدد عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے مالی سمجھوتوں پر راضی ہو گئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:42