سعودی حکومت آئندہ برس کیا کرنا چاہتی ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی حکومت آئندہ برس کیا کرنا چاہتی ہے؟

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے بدھ کے روز ایک خطاب میں آئندہ برس کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اپنے منصوبوں کے حوالے سے ملکی شوریٰ کونسل کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اپنی سالانہ تقریر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملکی سطح پر جاری اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات  میں ان کا ساتھ دیں۔ نومبر کے آغاز میں شاہ سلمان کے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث درجنوں سعودی شہزادوں اور اعلیٰ کاروباری شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا۔ ان میں سے متعدد شخصیات نے اپنی رہائی کے بدلے ’بڑی رقوم‘ واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ڈا ونچی کا شاہکار کروڑوں ڈالر میں خریدنے والا سعودی ولی عہد

اکیاسی سالہ شاہ سلمان کا مشاورتی شوری کونسل کے سامنے اپنے سات منٹ دورانیے کے خطاب میں مزید کہنا تھا، ’’ہم کرپشن کا مضبوطی اور منصفانہ طریقے سے خاتمہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ اس موقع پر ولی عہد کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ بھی موجود تھے۔ سعودی عرب نے حال میں سینما گھروں پر عائد پابندی کا خاتمہ کیا ہے جبکہ خواتین کے حوالے سے بھی متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ خواتین کو نہ صرف اسٹیڈیم میں جانے بلکہ ڈرائیونگ کرنے اور اسکولوں میں فزیکل ٹریننگ حاصل کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

 اسلام کا چہرہ مسخ نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

ماضی میں سعودی عرب کے مفتی اعظم اور دیگر مذہبی حلقے ان اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان نے نئے فلاحی نظام کے تحت غریب گھرانوں کی مالی مدد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کے ٹیلی وژن العربیہ کے مطابق چھ افراد پر مشتمل خاندان کی آمدنی اگر 23 سو ڈالر ماہانہ کے قریب ہے تو اسے نئی اسکیم کے تحت تقریبا اضافی 320 ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے پہلی ادائیگیاں 21 دسمبر کو کی جائیں گی۔ اس کے بعد سعودی عرب میں بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔ سعودی عرب نے سن دو ہزار پندرہ میں بجلی کی مد میں دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ کر دیا تھا۔

اپنے خطاب میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں۔ شاہ سلمان کے مطابق سعودی عرب تاہم چاہتا ہے کہ علاقائی بحرانوں کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی مسئلے اور فلسطینیوں کے حقوق کی بات کی۔ سعودی فرمانروا نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کی۔

DW.COM